Sunday, August 16

پریس ریلیزبلوچستان میں حفاظتی ٹیکہ جات کی کوریج میں تاریخی بہتری، ڈاکٹر آفتاب کاکڑ کی مؤثر حکمتِ عملی اور ٹیم ورک نمایاں

Historic Improvement in Immunization Coverage in Balochistan, Effective Strategy and Teamwork of EPI Balochistan Coordinator Dr Aftab Kakar Highlighted

کوئٹہ، 16 اگست 2026 (کامران راجہ): بلوچستان میں بچوں کے حفاظتی ٹیکہ جات کی کوریج میں نمایاں بہتری سامنے آئی ہے۔ تازہ ترین غیر جانب دار تھرڈ پارٹی ویریفیکیشن سروے کے مطابق معمول کے حفاظتی ٹیکہ جات کا مکمل کورس حاصل کرنے والے بچوں کی شرح میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔تھرڈ پارٹی ویریفیکیشن آف امیونائزیشن کوریج سروے راؤنڈ 3، 2026 کے مطابق، جو آغا خان یونیورسٹی پاکستان کی نگرانی میں کیا گیا، بلوچستان میں مکمل طور پر ویکسین شدہ بچوں کی شرح 38 فیصد سے بڑھ کر 56.6 فیصد ہوگئی ہے۔ سروے میں زیرو ڈوز بچوں کی شرح میں 20.3 فیصد پوائنٹس کی کمی بھی ریکارڈ کی گئی، یعنی ایسے بچے جنہیں معمول کے حفاظتی ٹیکوں میں سے کوئی بھی ویکسین نہیں لگی تھی۔اس بہتری کو ویکسینیشن کی سہولیات سے محروم بچوں تک رسائی، روٹین امیونائزیشن کو مضبوط بنانے اور صوبے میں توسیعی پروگرام برائے حفاظتی ٹیکہ جات (EPI) کی مجموعی کارکردگی میں اہم کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔ملک گیر سطح پر کیے گئے اس سروے کا مقصد بچوں میں ویکسینیشن کی کوریج اور حفاظتی ٹیکہ جات پروگرام کی کارکردگی کا آزادانہ جائزہ لینا تھا۔ سروے میں 12 سے 23 ماہ کی عمر کے بچوں کو شامل کیا گیا، جبکہ ڈیٹا اکٹھا کرنے کا عمل 3 اپریل سے 30 مئی 2026 تک جاری رہا۔یہ امر خصوصی طور پر قابلِ ذکر ہے کہ سروے کے دوران ڈاکٹر آفتاب کاکڑ بلوچستان میں EPI کے سربراہ کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ ان کی قیادت میں محدود وسائل اور بلوچستان کے وسیع و دشوار گزار جغرافیے کے باوجود روٹین امیونائزیشن کو بہتر بنانے پر خصوصی توجہ دی گئی۔

اہم اقدامات میں ویکسین تک رسائی بہتر بنانا، زیرو ڈوز بچوں کی نشاندہی اور ان تک رسائی، فیلڈ سطح پر مانیٹرنگ کا نظام مضبوط بنانا اور دستیاب وسائل کا مؤثر استعمال شامل تھا۔ پروگرام کی شاندار کارکردگی کے اعتراف میں ایک تقریب کے دوران ڈاکٹر آفتاب کاکڑ کو ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔حفاظتی ٹیکہ جات کی کوریج میں اس بہتری کو کسی ایک فرد کی کوشش کے بجائے مؤثر قیادت، بہتر منصوبہ بندی، حکمتِ عملی اور مربوط ٹیم ورک کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔ڈاکٹر آفتاب کاکڑ کی سربراہی میں صوبائی EPI پروگرام نے ڈونر ایجنسیوں اور ایمرجنسی آپریشنز سینٹر کے ساتھ رابطہ کاری بہتر بنائی، ضلعی EPI ٹیموں کے ساتھ مسلسل رابطہ رکھا، فیلڈ سطح پر مربوط حکمتِ عملی اپنائی، مانیٹرنگ کو مضبوط کیا اور خامیوں کی بروقت نشاندہی اور ان کے ازالے کو یقینی بنایا۔ بلوچستان کے وسیع رقبے، دشوار گزار جغرافیے اور بکھری ہوئی آبادی کے باعث بچوں کو قابلِ انسداد بیماریوں سے تحفظ فراہم کرنا صحتِ عامہ اور انتظامی سطح پر ایک پیچیدہ چیلنج ہے۔مکمل حفاظتی ٹیکہ جات کی کوریج کا 38 فیصد سے بڑھ کر 56.6 فیصد ہونا اور زیرو ڈوز بچوں کی شرح میں نمایاں کمی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ مؤثر منصوبہ بندی، مضبوط فیلڈ مانیٹرنگ، ضلعی سطح پر مربوط ٹیم ورک اور شراکت دار اداروں کے ساتھ بہتر تعاون کے ذریعے محدود وسائل میں بھی قابلِ ذکر نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔