
اقوام متحدہ، 25 اکتوبر 2026 (کامران راجہ): پاکستان نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ جموں و کشمیر ایک بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازع علاقہ ہے، جس کی حتمی حیثیت کا تعین کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق اقوام متحدہ کی نگرانی میں استصوابِ رائے کے ذریعے کیا جانا چاہیے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی تیسری کمیٹی میں اقلیتوں کے حقوق سے متعلق خصوصی نمائندے پروفیسر نکولس لیوراٹ کے ساتھ ایک مکالمے کے دوران پاکستانی مندوب صائمہ سلیم نے کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام کو اقوام متحدہ کی نگرانی میں آزادانہ اور غیر جانب دارانہ استصوابِ رائے کے ذریعے حقِ خودارادیت استعمال کرنے کا موقع دیا جانا چاہیے، جیسا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں، بشمول قرارداد 47 (1948)، میں تصور کیا گیا ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے کی جانب سے اقلیتوں کے حقوق اور عوام کے حقِ خودارادیت کے درمیان فرق کو تسلیم کرنے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ امتیاز مسئلہ جموں و کشمیر کے تناظر میں خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ صائمہ سلیم نے اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا اور زور دیا کہ مساوات، عدم امتیاز اور بنیادی حقوق کے احترام کے اصولوں پر دنیا بھر میں یکساں، مستقل اور بلاامتیاز عمل درآمد ہونا چاہیے۔ انہوں نے دنیا بھر میں اقلیتوں، بشمول مسلم اقلیتوں، کے خلاف بڑھتے ہوئے امتیازی سلوک، عدم برداشت، نفرت انگیز تقاریر اور تشدد پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلاموفوبیا، مذہبی بنیادوں پر پروفائلنگ، مذہبی آزادیوں پر پابندیوں اور نفرت پر اکسانے کے بڑھتے ہوئے واقعات عالمی سطح پر زیادہ توجہ اور مشترکہ اقدامات کے متقاضی ہیں۔