Saturday, October 24

پاکستان کا افغانوں کو طالبان کے خلاف مسلح کرنے کے الزامات مسترد، زلمے خلیل زاد کے دعوے بے بنیاد قرار

Pakistan Rejects Khalilzad’s ‘Baseless’ Allegations of Arming Afghans Against Taliban

اسلام آباد، 24 اکتوبر 2026 (نوشین): وزارت اطلاعات و نشریات نے افغانستان کے لیے سابق امریکی خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد کے ان الزامات کو بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے کہ پاکستان سابق افغان اہلکاروں کو طالبان یا ان کی حمایت کرنے والے دہشت گرد گروہوں کے خلاف لڑنے کے لیے مسلح کر رہا ہے۔ وزارت کے فیکٹ چیک اکاؤنٹ نے ہفتے کے روز جاری بیان میں کہا کہ زلمے خلیل زاد کے وسیع الزامات محض قیاس آرائیوں پر مبنی بیانیے کو دہراتے ہیں اور ان کے پیچھے ذاتی ایجنڈا کارفرما دکھائی دیتا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ افغان طالبان کے زیر کنٹرول علاقوں میں سرگرم دہشت گرد تنظیموں کے خلاف پاکستان کی جائز انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں کو افغان شہریوں کی بھرتی یا افغانستان کے اندر مسلح گروہوں کی سرپرستی کے الزامات سے جوڑنا انتہائی گمراہ کن ہے۔ وزارت نے واضح کیا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صفِ اول کا کردار ادا کر رہا ہے اور علاقائی امن و سلامتی کے تحفظ کے لیے بے پناہ قربانیاں دے چکا ہے۔ بیان میں اقوام متحدہ کی مسلسل جاری ہونے والی نگرانی رپورٹس کا حوالہ بھی دیا گیا، جن میں افغانستان کے اندر کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور القاعدہ سمیت دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی اور سرگرمیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ وزارت کے مطابق خلیل زاد کے الزامات افغان طالبان حکومت کی اس ذمہ داری سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہیں کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے بھارت کی سرپرستی میں سرگرم عناصر کے استعمال سے روکے۔ زلمے خلیل زاد نے طالبان کے ساتھ امریکی معاہدے پر مذاکرات کیے تھے، جس کے نتیجے میں افغانستان سے نیٹو افواج کا انخلا ہوا۔ وہ ماضی میں بھی پاکستان اور افغانستان کے تعلقات اور علاقائی سلامتی کے حوالے سے بیانات دیتے رہے ہیں۔ گزشتہ سال نومبر میں وزارت اطلاعات نے پنجاب میں داعش خراسان (آئی ایس کے پی) کی موجودگی کے حوالے سے غلط تاثر پیدا کرنے پر بھی خلیل زاد کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ وزارت نے وضاحت کی تھی کہ اختر آباد میں ایک شخص کی ہلاکت ڈکیتی سے متعلق واقعے کے دوران ہوئی تھی، نہ کہ انسدادِ دہشت گردی کی کارروائی میں، اور اس شخص کا داعش خراسان سے تعلق ثابت کرنے کے لیے کوئی شواہد موجود نہیں تھے۔ مارچ 2023 میں دفتر خارجہ نے بھی خلیل زاد کے بیانات پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان کو اپنے مسائل پر غیر مطلوب مشوروں کی ضرورت نہیں۔ بعدازاں امریکی محکمہ خارجہ نے واضح کیا تھا کہ خلیل زاد امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کی خارجہ پالیسی کی نمائندگی نہیں کرتے۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران سرحد پار دہشت گردی پر پاکستان کے تحفظات کے باعث پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کشیدہ رہے ہیں۔ ستمبر میں سرحدی جھڑپوں، مبینہ ڈرون دراندازی اور افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے لیے پاکستانی فضائی کارروائیوں کے بعد کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ افغان سرزمین کو اس کے شہریوں کے خلاف دہشت گرد حملوں کے لیے استعمال ہونے سے روکنا علاقائی امن و سلامتی کے لیے ناگزیر ہے۔