اسلام آباد، 26 اگست 2026 (کامران راجہ) — وزارت اطلاعات و نشریات نے افغان طالبان حکومت کی جانب سے کیے جانے والے پروپیگنڈے کو مسترد کرتے ہوئے اس کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے پاکستان مخالف بیان کو گمراہ کن، من گھڑت اور بے بنیاد قرار دیا ہے۔ وزارت اطلاعات و نشریات کی جانب سے جاری فیکٹ چیک کے مطابق طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے افغان میڈیا ادارے آماج نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو کے دوران جھوٹا اور بے بنیاد دعویٰ کیا۔ وزارت کے مطابق طالبان ترجمان نے دعویٰ کیا کہ بدخشان میں ہونے والی مسلح جھڑپوں کے دوران پاک فوج بھی موجود تھی۔ تاہم دستیاب آزاد ذرائع کی رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ جھڑپیں افغانستان کے اپنے اندرونی سکیورٹی اور انتظامی مسائل سے جڑی مسلح کشمکش کا حصہ ہیں۔ وزارت اطلاعات و نشریات نے واضح کیا کہ افغانستان میں جاری اندرونی تشدد کا الزام پاکستان پر عائد کرنے کی کوششیں گمراہ کن ہیں اور ملک کے خلاف ایک غلط بیانیہ تشکیل دینے کی کوشش ہیں۔ وزارت نے مزید کہا کہ بدخشان میں ہونے والا تشدد افغانستان کے اپنے داخلی سکیورٹی اور حکمرانی کے مسائل کی عکاسی کرتا ہے، جسے قابلِ اعتماد شواہد کے بغیر پاکستان سے منسوب نہیں کیا جا سکتا۔وزارت اطلاعات و نشریات نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کے خلاف بے بنیاد الزامات اور من گھڑت دعوے افغانستان کی صورتحال سے متعلق حقائق کو نہیں چھپا سکتے۔
