Thursday, September 24

پاکستان میں ہواوے کے پہلے قومی سطح کے اسپیئر پارٹس ریپئر سینٹر کا افتتاح

Huawei inaugurates first national-level spare parts repair center in Pakistan

اسلام آباد، 24 ستمبر 2026 (غفران): وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ نے اسلام آباد میں ہواوے کے پہلے قومی سطح کے اسپیئر پارٹس ریپئر سینٹر کا افتتاح کردیا، جس کا مقصد پاکستان میں مقامی مرمت کی صلاحیت کو فروغ دینا، بیرون ملک خدمات پر انحصار کم کرنا اور ٹیلی کام انفرااسٹرکچر کو مضبوط بنانا ہے۔ اس موقع پر ہواوے پاکستان کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ایتھن سن بھی موجود تھے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا کہ ڈیجیٹل نیشن پاکستان کا وژن ایک ہنرمند اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ افرادی قوت تیار کرنا ہے، جو عالمی منڈیوں میں مقابلہ کرنے اور اپنی صلاحیتوں کے ذریعے قدر پیدا کرنے کے قابل ہو۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ٹیکنالوجی کے صارف سے ڈیجیٹل حل تیار کرنے، تخلیق کرنے اور برآمد کرنے والے ملک کی جانب بڑھ رہا ہے۔ وفاقی وزیر نے ہواوے کی سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور مقامی استعداد کار بڑھانے کے عزم کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ مرکز پاکستان کے ڈیجیٹل اور ٹیلی کام نظام کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ ایتھن سن نے کہا کہ ہواوے پاکستان میں پائیدار تکنیکی مہارتوں کے فروغ کے لیے شراکت داری پر فخر محسوس کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ مرکز عالمی ٹیکنالوجی کو مقامی صلاحیت میں تبدیل کرنے اور ملک میں تیز تر خدمات اور مضبوط نیٹ ورکس کی فراہمی کے وژن کی عکاسی کرتا ہے۔ ریپئر سینٹر میں ہواوے کے ٹیلی کام آلات کی مرمت، جانچ، خرابیوں کی نشاندہی اور دیکھ بھال کی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ مرکز میں 16 خصوصی مرمتی ڈیسک قائم کیے گئے ہیں، جو وائرلیس، مائیکرو ویو، ڈیجیٹل پاور اور ایکسیس نیٹ ورک ٹیکنالوجیز کے 180 سے زائد اقسام کے آلات کی مرمت کرسکتے ہیں۔ ہواوے کے مطابق مرکز میں 10 سے زائد مقامی ماہرین خدمات انجام دے رہے ہیں، جنہیں چین میں ہواوے کے مرکزی دفتر سے تربیت فراہم کی گئی ہے۔ یہ مرکز سالانہ 10 ہزار سے زائد ماڈیولز کی جانچ اور مرمت کی صلاحیت رکھتا ہے، جبکہ تقریباً 60 فیصد کامیابی کی شرح کے ساتھ 6 ہزار سے زائد پرزے دوبارہ قابل استعمال بنائے جاسکتے ہیں۔ اس اقدام سے مرمت کے اخراجات اور بیرون ملک انحصار میں کمی، ٹیلی کام نیٹ ورکس کی مضبوطی اور ہنگامی حالات سمیت معمول کی کارروائیوں کے دوران مواصلاتی خدمات کا تسلسل یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔