
بغداد، 15 اکتوبر 2026 (نوشین): پاکستان اور ایران کے درمیان علاقائی امن کی کوششوں پر نئی مشاورت متوقع ہے، جو 17 اور 18 اکتوبر کو بغداد میں اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کی وزرائے خارجہ کونسل کے 52ویں اجلاس کے موقع پر ہوگی۔ ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی ہفتے کے روز عراق کا دورہ کریں گے، جبکہ پاکستان، مصر اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ کی بھی اجلاس میں شرکت متوقع ہے۔ دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر وعدے کرکے توڑنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کو اپنے طرزِ عمل کی قیمت چکانا ہوگی اور اسے اپنی پالیسی تبدیل کرنے پر مجبور کرنا چاہیے۔ ارنا کے مطابق، قالیباف نے زور دیا کہ ایران کو مستقبل میں ممکنہ حملوں کی روک تھام اور پائیدار دفاعی رکاوٹ قائم کرنے کے لیے فوجی کارروائیوں کے ساتھ مذاکرات بھی جاری رکھنے چاہئیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آیا امریکہ کے ساتھ کسی تحریری معاہدے پر دستخط ہونے کے باوجود اس بات کی ضمانت دی جاسکتی ہے کہ واشنگٹن مستقبل میں ایران پر حملے نہیں کرے گا۔ انہوں نے صرف فوجی تصادم پر انحصار کرنے کے مؤقف کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایران کو اپنی دفاعی صلاحیتیں مضبوط بنانے کے ساتھ فوجی کامیابیوں کو سیاسی کامیابیوں میں تبدیل کرنا ہوگا۔ قالیباف کے مطابق، ایران کو اتنا طاقتور بننا چاہیے کہ امریکہ اور دیگر علاقائی و عالمی قوتیں اس کے خلاف اپنے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش نہ کریں۔ ادھر ایرانی فوج کے ڈپٹی چیف برائے رابطہ کاری ریئر ایڈمرل حبیب اللہ سیاری نے جمعرات کو کہا کہ آبنائے ہرمز بند رہے گی اور اس اہم آبی گزرگاہ سے کسی بھی بحری جہاز کی آمدورفت کے لیے ایرانی افواج کے ساتھ رابطہ اور ہم آہنگی ضروری ہوگی۔ فوجی نرسوں کے اعزاز میں منعقدہ تقریب کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سیاری نے امریکہ میں تیل کی ترسیل اور پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو آبنائے ہرمز کی صورتحال سے متعلق اہم اشارے قرار دیا۔ ان پیش رفتوں کے باعث خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور عالمی توانائی کی ترسیل کے تحفظ سے متعلق خدشات مزید نمایاں ہوگئے ہیں۔