
اسلام آباد، 26 اکتوبر 2026 (غفران): وفاقی وزیر برائے پیٹرولیم علی پرویز ملک نے پیر کو امریکی ناظم الامور نیٹلی اے بیکر سے ملاقات کی، جس میں توانائی کے شعبے میں دوطرفہ تعاون کو مضبوط بنانے، سرمایہ کاری کے نئے مواقع تلاش کرنے اور طویل مدتی توانائی شراکت داری کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات کے دوران وفاقی وزیر نے امریکی سفارت کار کو بدلتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی صورتحال کے تناظر میں پاکستان کی توانائی کی ضروریات کو محفوظ بنانے کے لیے کیے گئے اقدامات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کے باعث ایندھن کی دستیابی کو چیلنجز کا سامنا ہے، جس کے پیش نظر ملک میں ایندھن کی بلاتعطل فراہمی یقینی بنانے کے لیے پیشگی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ نیٹلی اے بیکر نے مشکل علاقائی صورتحال کے باوجود ایندھن کی فراہمی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھنے اور قلت سے بچنے پر پاکستان کی کوششوں کو سراہا۔ علی پرویز ملک نے توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کی متعلقہ ٹیمیں تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنے کے لیے مسلسل رابطے میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ریفائنریوں کی استعداد اور کارکردگی بہتر بنانے کے پروگرام میں امریکی مالیاتی اداروں کے لیے سرمایہ کاری کے اہم مواقع موجود ہیں۔ امریکی ناظم الامور نے پاکستان کی توانائی ضروریات پوری کرنے کے لیے قریبی تعاون کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں امریکی کمپنیوں کے لیے کاروباری مواقع پیدا کرنا اہم ہے۔ انہوں نے طویل مدتی توانائی فراہمی کے معاہدوں کے قیام کے حوالے سے بھی امید ظاہر کی اور کہا کہ ایسے معاہدے دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ثابت ہوں گے اور امریکی کاروباری اداروں کے لیے نئے مواقع پیدا کریں گے۔ ملاقات میں پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) اور پاکستان ایل این جی لمیٹڈ (پی ایل ایل) کے منیجنگ ڈائریکٹرز نے شرکاء کو پاکستان کو مائع قدرتی گیس (ایل این جی) فراہم کرنے میں امریکی کمپنیوں کی دلچسپی سے آگاہ کیا۔ وفاقی وزیر نے امریکی کمپنیوں کو آئندہ پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم (پی ایم آئی ایف) میں شرکت کی دعوت بھی دی اور پاکستان میں سرمایہ کاری کے دستیاب مواقع کو اجاگر کیا۔ انہوں نے امریکی تعاون پر گہری قدردانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ روابط میں اضافے سے توانائی کے شعبے میں تعاون مضبوط ہوگا اور پاکستان کی طویل مدتی توانائی سلامتی کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔