اسلام آباد، 6 ستمبر, 2026 (غفران): پاکستانی ڈرامے اب محض تفریح تک محدود نہیں رہے بلکہ اہم سماجی اور نفسیاتی مسائل کو اجاگر کرتے ہوئے ناظرین کو قیمتی اسباق بھی دے رہے ہیں۔ ’دوبارہ‘، ’قرضِ جاں‘، ’کفیل‘، ’جامع تقسیم‘، ’ضبط‘ اور ’بس تیرا ساتھ ہو‘ جیسے حالیہ ڈراموں میں خواتین کے حقوق، دوسری شادی، خاندانی دباؤ، بچپن کے صدمات، ہراسانی، نام نہاد عزت اور غیر صحت مند خاندانی تعلقات جیسے موضوعات کو اجاگر کیا گیا ہے۔ ’دوبارہ‘، ’قرضِ جاں‘ اور ’کفیل‘ نے بیوہ اور مطلقہ خواتین کی دوبارہ شادی سے متعلق معاشرتی تعصبات کو چیلنج کیا، جبکہ ’جامع تقسیم‘ نے مشترکہ خاندانی نظام میں رائج سخت روایات اور دوہرے معیار پر سوال اٹھایا۔ ’ضبط‘ میں لاوارث یا نظرانداز کیے گئے بچوں کے ساتھ امتیازی سلوک کے جذباتی اثرات اور والدین کے حد سے زیادہ کنٹرول کے نتائج کو دکھایا گیا ہے۔ دوسری جانب ’بس تیرا ساتھ ہو‘ نے مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ گمراہ کن مواد اور افواہوں کے باعث خواتین کو درپیش سماجی دباؤ کو موضوع بنایا ہے۔ یہ ڈرامے اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ ہمدردی، سمجھ بوجھ اور جذباتی تعاون نسل در نسل منتقل ہونے والے صدمات کے سلسلے کو توڑنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ایسے ڈرامے ناظرین کو فرسودہ معاشرتی رویوں پر سوال اٹھانے اور خاندان، شناخت، شادی اور ذہنی صحت جیسے معاملات کو نئے انداز میں سمجھنے کی ترغیب دے رہے ہیں۔ پاکستان میں ذہنی صحت سے متعلق آگاہی اور علاج تک رسائی کے مسائل کے باعث ٹیلی ویژن ڈرامے سماجی شعور اور نفسیاتی آگاہی کے فروغ کا ایک مؤثر ذریعہ بنتے جا رہے ہیں۔
