
واشنگٹن، 30 اکتوبر 2026 (غفران): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امید ظاہر کی ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ جلد ختم ہو جائے گی، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی ممکنہ معاہدے میں اس بات کی ضمانت ضروری ہے کہ تہران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا۔ تین نومبر کو ہونے والے امریکی وسط مدتی کانگریسی انتخابات سے قبل جمعہ کو کنساس سٹی کے ریڈیو اسٹیشن کے سی ایم او کو انٹرویو دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ جنگ جلد ختم ہونے والی ہے، تاہم انہوں نے اس حوالے سے کوئی تفصیلات نہیں بتائیں کہ تنازع کس طرح ختم ہوگا۔ انہوں نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنا امریکا کا بنیادی مقصد ہے اور واشنگٹن اس حوالے سے ٹھوس ضمانتیں چاہتا ہے۔ ٹرمپ اس سے قبل بھی کہہ چکے ہیں کہ امریکا انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ نہیں کرے گا۔ دوسری جانب امریکا اور ایران کے درمیان معاہدے کی کوششوں کے سلسلے میں قطری ثالث جمعہ کو دوبارہ تہران پہنچ گئے۔ قطر نے رواں ہفتے ایران کو امن منصوبے کا مسودہ پیش کیا تھا، تاہم ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے ان تجاویز کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے تہران کے جوہری مؤقف پر قائم رہنے کا اعلان کیا۔ امریکا چاہتا ہے کہ مذاکرات کے آغاز ہی سے جوہری معاملات کو زیر بحث لایا جائے، جبکہ ایران کا مطالبہ ہے کہ واشنگٹن پہلے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کرے اور تیل کی برآمدات پر عائد پابندیاں اٹھائے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بدھ کو کہا تھا کہ تہران مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے اپنی سات روزہ تجویز پر عمل درآمد یقینی بنانے کے حوالے سے ثالثوں کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے۔ جمعرات کو ٹرمپ نے کہا تھا کہ نائب صدر جے ڈی وینس کا ایران سے رابطہ طبی سامان سے متعلق تھا، جبکہ امریکی میڈیا رپورٹس میں اس رابطے کو امن مذاکرات کی بحالی کی کوششوں سے جوڑا گیا تھا۔ سفارتی کوششوں میں تیزی کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان اہم اختلافات تاحال برقرار ہیں۔