
واشنگٹن، 30 اکتوبر 2026 (نوشین): امریکا نے قومی سلامتی کے خدشات کے پیش نظر چینی ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیوں کی امریکی فون نمبرز تک براہِ راست رسائی روکنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کا مقصد دھوکہ دہی پر مبنی خودکار فون کالز اور ممکنہ سائبر خطرات کی روک تھام ہے۔ امریکی فیڈرل کمیونیکیشنز کمیشن (ایف سی سی) نے جمعرات کو اعلان کیا کہ وہ 19 نومبر کو ایک تجویز پر ووٹنگ کرے گا، جس کے تحت چائنا موبائل، چائنا ٹیلی کام، چائنا یونی کام اور دیگر انٹرنیٹ پروٹوکول پر مبنی سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں کی براہِ راست رسائی پر پابندی عائد کی جا سکتی ہے۔ وائس اوور انٹرنیٹ پروٹوکول (وی او آئی پی) ٹیکنالوجی کے ذریعے آواز کو ڈیجیٹل ڈیٹا میں تبدیل کرکے براڈبینڈ نیٹ ورکس کے ذریعے منتقل کیا جاتا ہے، جبکہ فون نمبرز تک براہِ راست رسائی ان کمپنیوں کے لیے کم لاگت اور جدید سہولیات فراہم کرنے کا آسان ذریعہ ہے۔ ایف سی سی کے چیئرمین برینڈن کار نے کہا کہ اس فیصلے سے مشکوک عناصر اور غیر قانونی خودکار کالز کے خلاف امریکا کے دفاعی نظام کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔ چینی سفارت خانے نے اس معاملے پر فوری طور پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔ ایف سی سی نے مزید بتایا کہ وہ انٹرنیٹ پروٹوکول سروس فراہم کرنے والی ایسی کمپنیوں پر بھی پابندی لگانے کا ارادہ رکھتا ہے جو ہواوے اور زیڈ ٹی ای جیسی ان کمپنیوں کا سامان استعمال کرتی ہیں جنہیں امریکی قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا گیا ہے۔ کمیشن دسمبر 2028 سے چینی لیبارٹریوں کو امریکی الیکٹرانک مصنوعات کی جانچ سے روکنے کا منصوبہ بھی رکھتا ہے، جبکہ قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دی جانے والی چینی کمپنیوں کی فون نمبرز تک براہِ راست رسائی کی اجازت بھی واپس لی جا سکتی ہے۔ امریکا اس سے قبل چائنا موبائل، چائنا ٹیلی کام اور چائنا یونی کام کو امریکی مارکیٹ میں بین الاقوامی ٹیلی کمیونیکیشن خدمات فراہم کرنے سے روک چکا ہے۔ واشنگٹن میں چینی کمپنیوں کی جانب سے جاسوسی اور امریکی ٹیلی کام ڈیٹا و بنیادی ڈھانچے کے ممکنہ غلط استعمال کے خدشات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ 2024 کے اواخر میں امریکی حکام نے الزام عائد کیا تھا کہ چین سے وابستہ سائبر جاسوسی گروپ سالٹ ٹائفون نے صارفین کے کال ریکارڈز اور امریکی ٹیلی فون ڈیٹا تک رسائی حاصل کرنے کے ساتھ ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیوں کے نظام میں بھی مداخلت کی تھی۔ ایف بی آئی نے رواں سال خبردار کیا کہ سالٹ ٹائفون سے لاحق خطرات بدستور موجود ہیں۔ چین نے ان الزامات کی مسلسل تردید کرتے ہوئے کسی بھی قسم کی غلط کاری میں ملوث ہونے سے انکار کیا ہے۔