Sunday, August 23

ٹرمپ اور کارنی آمنے سامنے، امریکا کینیڈا تجارتی کشیدگی بڑھ گئی

Trump Hits Back at Canada After Retaliatory Tariffs Announcement

واشنگٹن، 23 اگست 2026 (نیوز ڈیسک): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کے روز کینیڈا کی جانب سے تجارتی مذاکرات ناکام ہونے کے بعد امریکا پر جوابی محصولات عائد کرنے کے اعلان پر کینیڈا کو شدید ردعمل دیا۔ کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے امریکا کے خلاف جوابی محصولات کا اعلان کیا تھا۔ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں کہا، ’’کینیڈا ریاست ہونے کے فوائد حاصل کرنا چاہتا ہے، بغیر ریاست بنے!!!‘‘ انہوں نے کہا، ’’انہوں نے کئی سالوں سے ہمارے عظیم کسانوں پر بھاری مقدار میں محصولات عائد کیے ہیں۔ اب مزید نہیں!!!‘‘ کارنی نے ہفتے کے روز کہا تھا کہ کینیڈا کے نئے محصولات 8 ستمبر سے نافذ ہوں گے، جن کا خاص طور پر ہدف امریکی اسٹیل اور ڈیری کی صنعتیں ہوں گی۔ ہفتے کے روز امریکا کی جانب سے 50 فیصد نئے محصولات بھی نافذ ہوگئے، جن سے تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی اشیا یا امریکا کو کینیڈا کی برآمدات کے 5.5 فیصد حصے پر اثر پڑے گا۔ متاثر ہونے والی مصنوعات میں ہاکی اسٹکس سے لے کر سیمنٹ تک مختلف اشیا شامل ہیں۔ کارنی نے ایک روز قبل کہا تھا، ’’جب آپ پر حملہ ہوتا ہے تو آپ جنگ میں ہوتے ہیں۔ ہم پر حملہ کیا گیا ہے۔‘‘ کینیڈا کے نئے محصولات خاص طور پر امریکی اسٹیل اور ڈیری کی صنعتوں کو متاثر کریں گے اور 8 ستمبر سے نافذ ہوں گے۔ کارنی نے کہا کہ مزید تفصیلات آئندہ ہفتے سامنے لائی جائیں گی۔

ٹرمپ اس سے قبل کہہ چکے تھے کہ واشنگٹن کو ’’کینیڈا کے ساتھ معاہدہ کرنے کے قابل ہونا چاہیے‘‘ اور انہوں نے کارنی کے ساتھ اپنے ’’اچھے تعلقات‘‘ کا حوالہ بھی دیا تھا۔ تاہم، ہفتے کے روز کینیڈا کے وزیراعظم نے کہا کہ ٹرمپ نے ایسی شرائط پیش کیں جو بالآخر ناقابل قبول تھیں، حالانکہ اس سے قبل مذاکرات مثبت انداز میں آگے بڑھ رہے تھے۔ کارنی نے اوٹاوا میں کہا، ’’حالیہ دنوں میں امریکا نے ایسی نئی شرائط پیش کیں جو غیر معاشی، غیر منصفانہ اور کینیڈا کے لیے مجموعی فوائد کو نقصان پہنچانے والی تھیں، جبکہ کسی بھی معاہدے کے قابلِ اعتماد ہونے پر بھی سوال اٹھا دیا گیا۔‘‘ انہوں نے کہا، ’’ہم ان کی پیشکش قبول نہیں کر سکتے اور نہ ہی وہ چیز دیں گے جس کا انہوں نے مطالبہ کیا ہے۔‘‘ امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ہفتے کے روز نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ امریکا نے اسٹیل، ایلومینیم اور گاڑیوں پر اپنے محصولات کم کرنے کے ساتھ ساتھ کینیڈین لکڑی پر حال ہی میں عائد کیا گیا محصول ختم کرنے کی پیشکش کی تھی۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق گریئر نے کہا کہ ان اقدامات سے کینیڈا کو ’’کسی بھی تجارتی شراکت دار کے مقابلے میں سب سے زیادہ ترجیحی سلوک‘‘ حاصل ہوتا۔ گریئر نے ہفتے کے روز فاکس نیوز کو بھی بتایا کہ واشنگٹن ’’کینیڈا کی جوابی کارروائی کے جواب میں اقدامات آگے بڑھا رہا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ کینیڈین مذاکرات کاروں کے ساتھ مزید مذاکرات کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ ایک سینئر امریکی عہدیدار نے واشنگٹن میں اس ہفتے ہونے والے مذاکرات کو کھلے اور دوٹوک قرار دیا اور کہا کہ ان میں تلخی نہیں تھی۔