
اسلام آباد، 10 اگست 2026 (کامران راجا): وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا، جس میں کابینہ نے نیشنل ہاؤسنگ پالیسی 2026ء، اس پر عملدرآمد کے ایکشن پلان اور پاکستان انفارمیشن سکیورٹی فریم ورک 2026ء کی منظوری دے دی۔اجلاس کے آغاز میں کابینہ نے متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کی جس میں وزیراعظم محمد شہباز شریف، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار اور چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو مدبرانہ اور دور اندیش قیادت، پاکستان کا عالمی تشخص بلند کرنے اور قومی مفادات کے مؤثر دفاع پر خراج تحسین پیش کیا گیا۔ کابینہ نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان تاریخی مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کو اہم سفارتی و دفاعی پیش رفت قرار دیتے ہوئے اسے امت مسلمہ کے اتحاد و یکجہتی کو مزید مضبوط بنانے کی جانب اہم قدم قرار دیا۔کابینہ کو بتایا گیا کہ نیشنل ہاؤسنگ پالیسی 2026ء قومی و بین الاقوامی ماہرین پر مشتمل ورکنگ گروپ نے وفاقی وزارتوں، صوبائی حکومتوں اور ترقیاتی شراکت داروں سے مشاورت کے بعد تیار کی ہے۔ پالیسی کا مقصد تمام شہریوں کے لیے پائیدار، محفوظ اور معیاری رہائش کی فراہمی ہے۔ کابینہ نے ہدایت کی کہ ہاؤسنگ منصوبوں میں زوننگ قوانین کی مکمل پابندی یقینی بنائی جائے اور زمین کے مؤثر استعمال کے لیے عمودی رہائش کو ترجیح دی جائے۔ کابینہ نے انرجی ایفیشنسی کوڈز کو بھی پالیسی کا لازمی حصہ بنانے کی ہدایت کی تاکہ نئی تعمیرات توانائی کے مؤثر اور ماحول دوست تقاضوں سے ہم آہنگ ہوں۔
کابینہ کو وزیراعظم کی ’’اپنا گھر‘‘ اسکیم پر پیش رفت سے بھی آگاہ کیا گیا۔ بتایا گیا کہ مختلف بینکوں کی جانب سے گھر کے خواہشمند درخواست گزاروں کے لیے 220 ارب روپے کے قرضوں کی منظوری دی جا چکی ہے جبکہ کامیاب درخواست گزاروں کو 32 ارب روپے سے زائد کی رقم جاری کی جا چکی ہے۔ بورڈ آف انویسٹمنٹ کی جانب سے پیش کی گئی سمری پر کابینہ نے پاکستان اور سویڈن کے درمیان 1981ء میں طے پانے والے دوطرفہ سرمایہ کاری معاہدے کے خاتمے کے نوٹس کو واپس لینے کی منظوری دے دی۔ وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن نے پاکستان انفارمیشن سکیورٹی فریم ورک 2026ء کا مسودہ کابینہ کے سامنے پیش کیا۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ یہ فریم ورک سی ای آر ٹی (کمپیوٹر ایمرجنسی رسپانس ٹیم) رولز 2023ء کے تحت تیار کیا گیا ہے، جس کا مقصد انفارمیشن سکیورٹی کے بنیادی یکساں معیارات کا جامع اور متحد نظام وضع کرنا اور مرکزی نگرانی یقینی بنانا ہے۔ کابینہ نے پی آئی ایس ایف 2026ء کی منظوری دیتے ہوئے اسے سائبر سکیورٹی کے فروغ کے لیے اہم رہنما دستاویز قرار دیا اور مقررہ مدت کے اندر اس پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ وفاقی کابینہ نے 28 جولائی کو منعقدہ کابینہ کمیٹی برائے توانائی کے اجلاس میں کیے گئے فیصلے کی بھی توثیق کی، جس کے تحت پاکستان آئل ریفائننگ پالیسی 2023ء میں مجوزہ ترامیم کی منظوری دی گئی۔ ان ترامیم کا مقصد ملکی توانائی کی ضروریات کو بہتر طور پر پورا کرنے کے لیے آئل ریفائنریز کی اپ گریڈیشن کو یقینی بنانا ہے۔ کابینہ نے 27 جولائی اور 4 اگست کو منعقدہ اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاسوں میں کیے گئے فیصلوں کی بھی توثیق کی، جبکہ 24 جولائی کو منعقدہ کابینہ کمیٹی برائے قانون سازی کے اجلاس میں کیے گئے فیصلوں کی بھی منظوری دے دی۔