Wednesday, September 2

وفاقی وزیر قیصر احمد شیخ کا امن، ترقی اور علاقائی تعاون کے لیے ’شنگھائی اسپرٹ‘ سے سیکھنے پر زور

Federal Minister Qaiser Ahmed Sheikh Urges Pakistan to Learn from ‘Shanghai Spirit’ for Peace and Development

اسلام آباد، یکم ستمبر 2026 (نوشین): وفاقی وزیر برائے بورڈ آف انویسٹمنٹ قیصر احمد شیخ نے امن، مذاکرات، معاشی تعاون اور ترقی پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو اپنے عوام کا معیارِ زندگی بہتر بنانے اور خطے میں اپنا کردار مضبوط کرنے کے لیے ’شنگھائی اسپرٹ‘ سے سیکھنا چاہیے۔ وفاقی وزیر اسلام آباد میں انسٹی ٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز (IRS) اور چائنا میڈیا گروپ کے زیر اہتمام ”ایس سی او کے 25 سال: شنگھائی اسپرٹ اور اسلام آباد کے ساتھ ایک نیا سفر“ کے عنوان سے منعقدہ مشترکہ سیمینار سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کر رہے تھے۔ سیمینار میں سفارت کاروں، پالیسی سازوں، ماہرین تعلیم، میڈیا نمائندگان اور ماہرین نے شرکت کی۔ شرکاء نے شنگھائی تعاون تنظیم کے 25 سالہ سفر، علاقائی معاملات میں اس کے بڑھتے ہوئے کردار اور پاکستان کی جانب سے تنظیم کی صدارت سنبھالنے کے بعد ذمہ داریوں پر غور کیا۔ اپنے خیرمقدمی کلمات میں انسٹی ٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز کے صدر سفیر جوہر سلیم نے ایس سی او کے ارتقا پر روشنی ڈالی اور ’شنگھائی اسپرٹ‘ کے تصور کی وضاحت کرتے ہوئے باہمی اعتماد، باہمی مفاد، مساوات، مشاورت اور اختلافات کے پرامن حل کو اس کے بنیادی اصول قرار دیا۔ سینیٹر مشاہد حسین سید، چیئرمین پاکستان چائنا انسٹی ٹیوٹ، نے کلیدی خطاب میں کہا کہ ایس سی او سربراہ اجلاس ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب عالمی سطح پر بڑی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ انہوں نے ایشیا کی بڑھتی ہوئی اہمیت، چین کے ابھرتے ہوئے کردار اور گوادر کے ذریعے وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ رابطوں کے وسیع امکانات کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایس سی او کی سربراہی پاکستان کے علاقائی اور عالمی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور رابطوں، معاشی تعاون اور علاقائی انضمام کے فروغ کے لیے اہم مواقع فراہم کر سکتی ہے۔ چینی سفارتخانے کی منسٹر کونسلر اور مہمانِ اعزاز محترمہ ژوانگ شینیان نے پاکستان اور چین کی دیرینہ دوستی اور علاقائی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے شنگھائی تعاون تنظیم کی 25ویں سالگرہ اور امن، استحکام اور مشترکہ ترقی کے فروغ میں تنظیم کے بڑھتے ہوئے کردار کو بھی اجاگر کیا۔ وفاقی وزیر قیصر احمد شیخ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو چین کی غیر معمولی معاشی ترقی کا بغور مطالعہ کرنا چاہیے اور اس کے تجربات سے ایسے اسباق حاصل کرنے چاہئیں جو پاکستان کی اپنی ترقی کے سفر میں قابلِ عمل ہوں۔ چین کی معاشی ترقی کا حوالہ دیتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کو یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ چین نے مسلسل معاشی ترقی کیسے حاصل کی اور تقریباً 80 کروڑ افراد کو غربت سے کیسے نکالا۔انہوں نے کہا کہ غربت کے خاتمے، معاشی ترقی اور عوام کا معیارِ زندگی بہتر بنانے میں چین کا تجربہ پاکستان کے لیے قیمتی رہنمائی فراہم کر سکتا ہے۔

قیصر احمد شیخ نے کہا کہ ’شنگھائی اسپرٹ‘ کو محض ایک سفارتی تصور کے طور پر نہیں بلکہ مذاکرات، تعاون، باہمی مفاہمت اور اختلافات کے پرامن حل پر مبنی طرزِ عمل کے طور پر سمجھنا چاہیے۔ انہوں نے پاکستان اور بھارت پر بھی زور دیا کہ وہ باہمی مذاکرات اور مفاہمت کے ذریعے دیرینہ مسائل کے حل کے راستے تلاش کریں۔ دریائے سندھ کے پانی کے مسئلے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کو تنازعات جاری رکھنے کے بجائے مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کرنا چاہیے۔ وفاقی وزیر نے انسانی ترقی اور تعلیم کے شعبوں میں زیادہ سرمایہ کاری کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ دفاعی ضروریات اور تعلیم سمیت قومی ترقی میں براہِ راست کردار ادا کرنے والے شعبوں کے درمیان بہتر توازن قائم کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے بشکیک میں جاری ایس سی او اجلاس کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی شرکت سے پاکستان کو تنظیم کے پلیٹ فارم کے ذریعے اپنے علاقائی مفادات کو آگے بڑھانے کا اہم موقع حاصل ہوا ہے۔ عالمی چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ بین الاقوامی بحرانوں کے باعث دنیا بھر کے ممالک کو توانائی اور معاشی دباؤ کا سامنا ہے۔ انہوں نے پاکستان کے لیے چین کی مسلسل حمایت کو سراہتے ہوئے مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعاون اور مذاکرات کی اہمیت پر زور دیا۔ قیصر احمد شیخ نے مزید کہا کہ چین کے ترقیاتی تجربے کو پاکستانی تعلیمی اداروں میں بھی زیرِ مطالعہ لایا جانا چاہیے تاکہ یہ سمجھا جا سکے کہ چین نے اپنی معیشت کو کس طرح تبدیل کیا، غربت میں کمی کیسے لائی اور پائیدار ترقی کو کیسے فروغ دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو کامیاب بین الاقوامی تجربات سے سیکھتے ہوئے اپنی قومی ضروریات اور حالات کے مطابق حل تلاش کرنے چاہئیں۔ بعد ازاں پاکستان کی سابق سفیر نائلہ چوہان اور سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ پالیسی انسٹی ٹیوٹ  کے ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹر (پالیسی) ڈاکٹر شفقت منیر احمد نے بھی علاقائی تعاون، ایس سی او اور پاکستان کے بدلتے ہوئے کردار کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔سیمینار کے اختتام پر ’شنگھائی اسپرٹ‘ کے اصولوں، بالخصوص باہمی احترام، مذاکرات، تعاون اور اختلافات کے پرامن حل کو فروغ دینے پر زور دیا گیا۔ شرکاء نے علاقائی رابطوں، معاشی ترقی اور پاکستانی عوام کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانے کے لیے پاکستان کے عزم کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر بھی اتفاق کیا۔