
اسلام آباد، 2 ستمبر 2026 (غفران): وزیرِ مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی کی زیرِ صدارت آج وزارتِ خزانہ میں اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں وزیراعظم کے کیش لیس انیشی ایٹو کے آئندہ جائزہ اجلاس کی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں وزارتِ خزانہ، اسٹیٹ بینک آف پاکستان ,نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی ، کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی ، وزارتِ آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن اور نجی شعبے کے نمائندوں سمیت اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ وزیرِ مملکت نے وزیراعظم کی جانب سے جاری کردہ ہدایات پر پیش رفت کا جائزہ لیا اور پاکستان میں ڈیجیٹل مالیاتی نظام کی تبدیلی کے عمل کو تیز کرنے کے لیے اہم ترجیحات کا تعین کیا۔ اجلاس کا ایک اہم مقصد گزشتہ سال کی پیش رفت کا جائزہ لینا اور رواں مالی سال کے لیے قومی کیش لیس ڈیش بورڈ کے سالانہ کارکردگی اہداف مقرر کرنے کے عمل کا آغاز کرنا تھا۔ اجلاس میں حقیقی وقت میں نگرانی، شفافیت اور ڈیٹا پر مبنی فیصلہ سازی کو بہتر بنانے کے لیے نئے تجزیاتی اشاریے متعارف کرانے پر بھی غور کیا گیا۔شرکاء نے گزشتہ سال فعال ڈیجیٹل تاجروں، مجموعی ڈیجیٹل لین دین کے حجم اور ڈیجیٹل بینکنگ صارفین کی تعداد میں ہونے والی ترقی کا جائزہ لیا۔ اس کے علاوہ سرکاری ملکیتی اداروں اور خودمختار اداروں میں حکومتی ادائیگیوں کو ڈیجیٹل بنانے کے عمل پر بھی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں تمام سرکاری اداروں میں وینڈرز، ملازمین اور پنشنرز کو کی جانے والی ادائیگیوں کو مکمل طور پر ڈیجیٹل بنانے کے مقصد کا اعادہ کیا گیا۔ کمیٹی نے ملک بھر میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کے لیے تاجروں کی شمولیت بڑھانے کی حکمتِ عملیوں پر بھی غور کیا اور ڈیجیٹل لین دین کی حقیقی وقت میں نگرانی اور شفافیت بہتر بنانے کے لیے مرکزی مرچنٹ ڈیٹا بیس قائم کرنے کی تجویز پیش کی۔ شرکاء نے اس امر پر بھی زور دیا کہ ڈیجیٹل ادائیگی کے طریقہ کار کو مزید آسان اور مربوط بنایا جائے تاکہ شہری تمام متعلقہ مقامات پر بلا رکاوٹ ڈیجیٹل ادائیگیاں کر سکیں۔ وزیراعظم شہباز شریف کے وژن کو اجاگر کرتے ہوئے وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی نے تیز رفتار ڈیجیٹل مالیاتی تبدیلی کے ذریعے ایک شفاف، دستاویزی اور جامع معیشت کے قیام کے لیے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ کیش لیس انیشی ایٹو پر تیز رفتار عمل درآمد، ڈیجیٹل مالیاتی نظام کو مضبوط بنانے اور عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کرنے کے لیے پیش رفت کا باقاعدگی سے جائزہ لیا جاتا رہے گا۔اجلاس میں اس امر پر زور دیا گیا کہ کیش لیس اور ڈیجیٹل معیشت کے اہداف کے حصول کے لیے حکومتی اداروں، مالیاتی ریگولیٹرز اور نجی شعبے کے اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مربوط اور مؤثر تعاون ضروری ہے۔