Wednesday, August 12

وزیراعلیٰ پنجاب اور امریکی سفارتکار کی سکیورٹی و سرمایہ کاری سمیت مختلف شعبوں میں تعاون پر گفتگو

لاہور، 12 اگست 2026 (کامران راجا) — وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے بدھ کے روز امریکی ناظم الامور نٹالی اے بیکر سے ملاقات کی، جس میں تعلیم، سکیورٹی، سرمایہ کاری اور مختلف شعبوں میں تعاون کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات کے دوران دونوں جانب سے سکیورٹی، مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل اثاثوں اور توانائی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔ اس موقع پر سیلاب اور اسموگ سے متعلق پنجاب کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے امریکی ماہرین کی خدمات حاصل کرنے کی تجویز بھی زیرِ غور آئی۔ملاقات میں لاہور میں پنجاب-امریکا بزنس اینڈ انویسٹمنٹ فورم کے انعقاد کی تجویز پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، جس کا مقصد سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرنا اور پنجاب و امریکا کے درمیان معاشی تعاون کو مزید فروغ دینا ہے۔

امریکی ناظم الامور نٹالی اے بیکر نے خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے وزیراعلیٰ مریم نواز کے اقدامات کو سراہا اور لاہور میں بسنت فیسٹیول کے انعقاد اور جشن کے دوران عوام کے تحفظ کے لیے پنجاب حکومت کے انتظامات کی بھی تعریف کی۔مریم نواز نے کہا کہ آئندہ سال بسنت فیسٹیول کو مزید وسعت دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے قانونی اقدامات کر رہی ہے، جبکہ ترقی کے فروغ اور موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے نئی پالیسیاں بھی تشکیل دی جا رہی ہیں۔وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ امریکا میں مقیم پنجاب سے تعلق رکھنے والے تقریباً 10 لاکھ اوورسیز پاکستانی ملک کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مون سون سے قبل کیے گئے اقدامات اور ضلعی سطح پر واٹر مینجمنٹ سسٹمز کے قیام سے بارش کے پانی کی بروقت نکاسی یقینی بنانے میں مدد ملی ہے۔

مریم نواز نے کہا کہ ”پنجاب بدل رہا ہے“ اور صوبے کے شہروں اور دیہات میں اصلاحات کا عمل جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی پہلی خاتون وزیراعلیٰ کی حیثیت سے ان کی توجہ خواتین کو بااختیار بنانے کو محض علامتی اقدام کے بجائے عملی اقدامات میں تبدیل کرنے پر مرکوز ہے۔پنجاب حکومت نے خواتین کی سفری سہولت کے لیے الیکٹرک اسکوٹرز اور الیکٹرک بس سروس متعارف کرائی ہے، جبکہ خواتین کو چھوٹے کاروبار شروع کرنے اور مالی خودمختاری حاصل کرنے کے لیے بلاسود قرضے بھی فراہم کیے جا رہے ہیں۔ مریم نواز نے خواتین کے تحفظ کے لیے ڈائریکٹ پنک بٹن اور ورچوئل پولیس اسٹیشن سمیت دیگر اقدامات پر بھی روشنی ڈالی۔