
اسلام آباد، 29 ستمبر، 2026 (کامران راجہ): وزیراعظم شہباز شریف برطانیہ اور امریکا کا دو ہفتے کا دورہ مکمل کرنے کے بعد آج (منگل) پاکستان واپس پہنچیں گے۔ وزیراعظم نے 16 ستمبر کو اسلام آباد سے روانگی اختیار کی تھی اور لندن کے دورے کے بعد نیویارک پہنچے، جہاں انہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس میں شرکت کی۔ دورے کے دوران اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے وزیراعظم کا خطاب اہم مصروفیت رہا، جس میں انہوں نے علاقائی سلامتی، آبی حقوق، عالمی تنازعات اور امن کے فروغ کے لیے سفارتی کوششوں کی ضرورت پر پاکستان کا مؤقف پیش کیا۔ وزیراعظم آفس کے ایک ذرائع کے مطابق شہباز شریف چند روز قبل نیویارک سے لندن پہنچے تھے اور منگل کی صبح پاکستان کے لیے روانہ ہونے کی توقع تھی۔ نیویارک کے دورے کے دوران وزیراعظم کے ہمراہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزرا اور اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔ امریکا میں قیام کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے اہم ملاقات کی، جس میں علاقائی امن، دوطرفہ تعاون اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ایران اور امریکا کے درمیان جاری تنازع اور بالخصوص آبنائے ہرمز کی سلامتی سے متعلق خدشات بھی عالمی رہنماؤں کے درمیان ہونے والی بات چیت کے اہم موضوعات میں شامل رہے۔ وزیراعظم نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس سے بھی ملاقات کی، جس میں موسمیاتی تبدیلی، اسلاموفوبیا اور علاقائی سلامتی پر گفتگو ہوئی۔ اس کے علاوہ وزیراعظم نے کویت کے ولی عہد، بوسنیا و ہرزیگووینا کی صدارتی کونسل کے چیئرمین اور کینیا و آسٹریا کے رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں، جن میں اقتصادی تعاون، دوطرفہ تعلقات اور کثیرالجہتی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم کی وطن واپسی کے ساتھ برطانیہ اور امریکا کا ان کا طویل سفارتی دورہ اختتام پذیر ہوجائے گا۔