
برسلز، 13 اکتوبر 2026 (کامران راجہ): نیٹو کے اعلیٰ فوجی کمانڈر نے روس کو خبردار کیا ہے کہ اگر ماسکو نے نیٹو کی سرزمین پر حملہ کرنے کی حماقت کی تو اتحاد حملے میں معاونت کرنے والی ہر چیز کو تباہ کر دے گا۔ وارسا سکیورٹی فورم سے خطاب کرتے ہوئے امریکی فضائیہ کے جنرل الیکسس گرینکیوچ نے زور دیا کہ نیٹو ایک دفاعی اتحاد ہے، تاہم وہ دشمن کی افواج کو روکنے، ان کی قوت کمزور کرنے اور انہیں شکست دینے کی صلاحیت رکھتا ہے تاکہ رکن ممالک کے خلاف کسی بھی حملے کو مکمل طور پر ناکام بنایا جا سکے۔ ان کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب یورپ اور روس کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے اور یورپی اتحادیوں کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نیٹو کے اجتماعی دفاعی معاہدے سے وابستگی کے حوالے سے خدشات لاحق ہیں۔ حالیہ دنوں میں ٹرمپ نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے ساتھ ایک معاہدے کا اعلان کیا ہے جس کے تحت روس عالمی منڈیوں کو ڈیزل فراہم کر سکے گا، جبکہ انہوں نے یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی پر بھی دوبارہ تنقید کی ہے۔ یورپی حکومتوں نے ماسکو پر تخریبی کارروائیوں، ڈرون دراندازی اور سائبر حملوں میں اضافے کے الزامات عائد کیے ہیں، جبکہ روس نے گزشتہ ماہ خبردار کیا تھا کہ اگر نیٹو نے اس کے علاقے کالینن گراڈ کا زمینی رابطہ منقطع کرنے کی کوشش کی تو وہ جوہری ہتھیار استعمال کر سکتا ہے۔ اگرچہ گرینکیوچ نے اپنے خطاب میں روس کا نام واضح طور پر نہیں لیا، تاہم ان کے بیشتر بیانات کو ماسکو کے لیے انتباہ قرار دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی نیٹو پر حملہ کرنے کی حماقت کرتا ہے تو اتحاد لڑے گا اور اس بات کو یقینی بنائے گا کہ کسی بھی رکن ملک کے خلاف حملہ مکمل طور پر ناکام ہو۔ ان کے مطابق نیٹو کا ردعمل صرف ابتدائی حملے میں شریک فوجی دستوں تک محدود نہیں ہوگا بلکہ حملہ آور قوت کو مدد فراہم کرنے، اسے برقرار رکھنے اور اس کی کمان و کنٹرول میں معاونت کرنے والے تمام عناصر کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ روسی صدر پیوٹن اس ماہ کہہ چکے ہیں کہ روس کا کسی یورپی ملک پر حملہ کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں اور وہ پرامن بقائے باہمی کا خواہاں ہے، تاہم روس تخریبی کارروائیوں اور دیگر غیر روایتی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزامات کی مسلسل تردید کرتا رہا ہے۔ گرینکیوچ نے کہا کہ حالیہ تخریبی کارروائیوں اور آتش زنی کے واقعات کے باعث نیٹو ممالک میں تشویش پیدا ہوئی، اسی لیے انہوں نے اتحاد کے دفاعی منصوبوں کے بارے میں عوامی سطح پر بات کرنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے نیٹو کے ایک ارب شہریوں کو یقین دلایا کہ اتحاد کو درپیش خطرات سے نمٹنے کے لیے ضروری اقدامات اور حکمت عملی کا علم ہے۔ امریکی جنرل نے واشنگٹن کی نیٹو سے وابستگی کے حوالے سے خدشات کم کرنے کی بھی کوشش کی اور یاد دلایا کہ ٹرمپ نے جولائی میں انقرہ میں ہونے والے نیٹو سربراہی اجلاس کے دوران اتحاد سے اپنی وابستگی کا اظہار کیا تھا۔