
ریاض، 3 اکتوبر 2026 (نوشین): سعودی حکام نے مکہ مکرمہ کی گرینڈ مسجد میں خودکش بمبار کی موجودگی سے متعلق اطلاعات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے ایک شخص کو راہگیروں کو ہراساں کرنے اور خوف و ہراس پھیلانے کے الزام میں گرفتار کیا۔ سعودی سکیورٹی حکام نے ایک بیان میں کہا کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ان اطلاعات میں کوئی صداقت نہیں کہ دھماکا خیز جیکٹ پہنے ایک مشتبہ خودکش بمبار خانہ کعبہ کے قریب پہنچا تھا اور بعد ازاں اسے گرفتار کر لیا گیا۔ حکام نے گرفتار شخص کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ دوسری جانب یمن میں حوثیوں کے خلاف کارروائی کرنے والے سعودی قیادت میں اتحاد نے دعویٰ کیا ہے کہ حوثیوں نے مدینہ منورہ میں بجلی کی تقسیم کے ایک اسٹیشن کو نشانہ بنایا، جو مسجد نبوی ﷺ کو بجلی فراہم کرتا ہے۔ اتحاد کے مطابق حملے کے نتیجے میں ایک ٹرانسفارمر متاثر ہوا تاہم بجلی کے مجموعی نظام میں خلل نہیں پڑا۔ حوثیوں کے زیر انتظام صبا نیوز ایجنسی کے حوالے سے ایک حوثی فوجی ذریعے نے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے اسے غلط قرار دیا۔ سعودی قیادت میں اتحاد نے کہا کہ تحقیقات اور ڈرون کے ملبے کے جائزے سے حملے میں حوثیوں کے ملوث ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔ حوثیوں نے صنعا اور یمن کے دیگر علاقوں پر سعودی فضائی حملوں کی بھی اطلاعات دی ہیں، تاہم سعودی حکام نے فوری طور پر ان حملوں کی تصدیق نہیں کی۔ حالیہ کشیدگی 2022 میں اقوام متحدہ کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان سرحد پار حملوں میں دوبارہ شروع ہونے والی شدید ترین لڑائی قرار دی جا رہی ہے۔ سعودی عرب نے یمن میں فضائی حملوں کے ذریعے جواب دیا ہے اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کی حوثیوں کے خلاف کارروائیوں میں حمایت کی ہے۔ سعودی قیادت میں اتحاد نے مزید کہا کہ اس نے جنوبی سعودی شہر خمیس مشیط کی جانب حوثیوں کی طرف سے داغا گیا ایک بیلسٹک میزائل بھی روک کر تباہ کر دیا۔ ادھر مقامی حکام نے دعویٰ کیا کہ متعدد بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے عدن میں سعودی قیادت میں اتحادی افواج کی کمان کے ہیڈکوارٹر کو بھی نشانہ بنایا گیا، تاہم فوری طور پر کسی فریق نے اس کی تصدیق نہیں کی۔