
اسلام آباد، 29 ستمبر 2026 (نوشین): پاکستان کے وکٹ کیپر بلے باز محمد رضوان نے مبینہ طور پر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) سے لاہور ہائی کورٹ کی ہدایات پر عمل درآمد اور اپنا موبائل فون واپس کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق رضوان نے ایجنسی سے اپنے خلاف جاری تحقیقات کی نوعیت کے حوالے سے تحریری تفصیلات فراہم کرنے کی بھی درخواست کی ہے۔ محمد رضوان نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے تقریباً دو ہفتے بعد این سی سی آئی اے کو خط ارسال کیا، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ انہیں تحقیقات کی مخصوص نوعیت سے آگاہ نہیں کیا گیا۔ انہوں نے ایجنسی سے زیرِ تفتیش معاملے کی وضاحت کرنے اور یہ بتانے کی درخواست کی کہ انہیں کب حکام کے سامنے پیش ہونا ہوگا۔ پاکستانی بلے باز نے یہ بھی نشاندہی کی کہ عدالتی ہدایات پر عمل درآمد کے لیے مبینہ طور پر ان سے کوئی باضابطہ رابطہ نہیں کیا گیا۔ این سی سی آئی اے نے 31 اگست کو انگلینڈ میں محمد رضوان کا موبائل فون اپنی تحویل میں لیا تھا، جو لارڈز میں انگلینڈ کے خلاف پاکستان کی ٹیسٹ شکست کے ایک روز بعد کی کارروائی تھی۔ رضوان کو مبینہ طور پر بتایا گیا تھا کہ موبائل فون تین گھنٹے میں واپس کر دیا جائے گا۔ تاہم کئی ہفتے گزرنے کے باوجود موبائل فون ایجنسی کی تحویل میں ہے۔ رضوان نے مبینہ طور پر فون کا پاس ورڈ بھی حکام کو فراہم کیا تھا اور اپنے خط میں مؤقف اختیار کیا کہ ان کی جانب سے رضاکارانہ تعاون اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ تحقیقات میں تعاون کے لیے تیار ہیں۔ لاہور ہائی کورٹ اس سے قبل این سی سی آئی اے کے دائرہ اختیار کو چیلنج کرنے والی محمد رضوان کی درخواست مسترد کر چکی ہے۔ عدالت نے کرکٹر کو کارروائی میں تعاون کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے ایجنسی کو یہ بھی ہدایت کی تھی کہ انہیں ہراساں یا غیر ضروری زحمت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ عدالت نے رضوان کو یہ اجازت بھی دی تھی کہ واپس نہ کیے جانے والے سامان، بشمول موبائل فون، کی واپسی کے لیے متعلقہ دائرہ اختیار رکھنے والی عدالت سے رجوع کر سکتے ہیں۔ رپورٹ میں محمد رضوان کے خط کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ کرکٹر تحقیقات میں تعاون کے لیے بدستور تیار ہیں، تاہم وہ چاہتے ہیں کہ این سی سی آئی اے زیرِ تفتیش الزامات یا واقعے کی واضح تفصیلات فراہم کرے اور لاہور ہائی کورٹ کی ہدایات کے مطابق کارروائی کرے۔ یہ پیش رفت ان رپورٹس کے ایک روز بعد سامنے آئی ہے جن میں این سی سی آئی اے کے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایجنسی نے رضوان سے متعدد مرتبہ رابطہ کرکے تعاون طلب کیا، تاہم بار بار کوششوں کے باوجود انہیں مثبت جواب نہیں ملا۔ دوسری جانب رضوان کی تازہ خط و کتابت مبینہ طور پر اس مؤقف سے مختلف ہے، جبکہ پاکستانی بلے باز کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ تحقیقات میں تعاون کے لیے تیار ہیں، بشرطیکہ ایجنسی تحقیقات کی نوعیت واضح کرے اور ان کے موبائل فون کے معاملے کو حل کرے۔