اسلام آباد، 11 اگست 2026 (نوشین): وفاقی وزیر داخلہ محسن رضا نقوی منگل کو سرکاری دورے پر تہران پہنچ گئے، جہاں پاکستان آبنائے ہرمز سے متعلق کشیدگی کے دوران ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ دورے کے دوران محسن نقوی کی اعلیٰ ایرانی حکام سے ملاقاتیں متوقع ہیں، جن میں آبنائے ہرمز کی صورتحال، پاک ایران دوطرفہ تعلقات اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ ایرانی میڈیا نے ان کی آمد کی تصدیق کی ہے، تاہم ملاقاتوں کے مکمل شیڈول کی تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آئیں۔
محسن نقوی کی ایرانی حکام سے ملاقاتوں میں آبنائے ہرمز کی صورتحال اہم موضوع رہے گی۔ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے ایک اہم بحری گزرگاہ ہے، جبکہ ایران امریکہ کشیدگی کے تناظر میں اس کی سیکیورٹی بھی اہم مسئلہ بن چکی ہے۔ پاکستان ایران اور امریکہ کے درمیان سفارتی رابطوں کے لیے ایک اہم ذریعہ بن کر سامنے آیا ہے اور دونوں ممالک کے ساتھ رابطے برقرار رکھتے ہوئے مذاکرات، باہمی مسائل کے حل اور خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکنے کی کوششوں کی حمایت کر رہا ہے۔ محسن نقوی حالیہ مہینوں میں متعدد مرتبہ ایران کا دورہ کر چکے ہیں اور رپورٹس کے مطابق موجودہ دورہ تنازع شروع ہونے کے بعد تہران کا ان کا چھٹا دورہ ہے۔
علاقائی صورتحال کے علاوہ محسن نقوی کی ملاقاتوں میں پاک ایران دوطرفہ تعلقات اور دونوں ہمسایہ ممالک کو درپیش مسائل بھی زیر بحث آنے کی توقع ہے۔ پاکستان اور ایران طویل سرحد کے ساتھ ساتھ گہرے تاریخی، ثقافتی اور اقتصادی تعلقات رکھتے ہیں اور دونوں ممالک سرحدی انتظامات سمیت دیگر معاملات پر تعاون بڑھانے کے لیے اقدامات جاری رکھے ہوئے ہیں۔ سابقہ دوروں کے دوران محسن نقوی نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان، پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف، وزیر خارجہ عباس عراقچی اور وزیر داخلہ اسکندر مومنی سمیت اعلیٰ ایرانی حکام سے ملاقاتیں کیں۔ پاکستان مذاکرات اور سفارتی رابطوں کی اہمیت پر زور دیتا رہا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز، ایران کا جوہری پروگرام اور وسیع تر علاقائی سلامتی کے معاملات جاری سفارتی کوششوں کے اہم موضوعات ہیں۔
