پیرس، 6 نومبر 2026 (نوشین): فرانس میں تنخواہوں میں اضافے اور مہنگائی کے خلاف ملک گیر احتجاجی مظاہروں کے دوران 448 افراد کو گرفتار جبکہ 53 پولیس اہلکار زخمی ہو گئے، احتجاج میں لاکھوں افراد نے شرکت کی۔ فرانسیسی وزارت داخلہ کے مطابق جمعرات کی شام 6 بجے تک ملک بھر میں 448 گرفتاریاں، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 53 اہلکاروں کے زخمی ہونے اور آگ لگنے کے 86 واقعات رپورٹ ہوئے۔ وزارت داخلہ نے کہا کہ اجازت کے ساتھ ہونے والے مظاہرے مجموعی طور پر پُرامن رہے، تاہم پیرس، لیون، رین اور ٹولوز میں کشیدگی دیکھنے میں آئی۔ حکام نے ملک بھر میں مظاہرین کی تعداد 5 لاکھ 75 ہزار بتائی، جن میں پیرس کے 65 ہزار افراد شامل تھے، جبکہ اس سے قبل یہ تعداد تقریباً 6 لاکھ بتائی گئی تھی۔ دوسری جانب سی جی ٹی ٹریڈ یونین نے ملک گیر احتجاج میں شرکا کی تعداد تقریباً 16 لاکھ قرار دی، جن میں ساڑھے 3 لاکھ افراد نے دارالحکومت پیرس میں شرکت کی۔ سی جی ٹی کی سیکریٹری جنرل سوفی بینے نے ہڑتال کو انتہائی مؤثر قرار دیتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ملازمین کے مطالبات پر توجہ دے۔ پیرس میں احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمیں کوئی نہیں روک سکتا، جبکہ تمام کارکنوں کی تنخواہوں میں اضافے اور کم از کم اجرت میں 10 فیصد اضافے کا مطالبہ بھی کیا۔ ادھر وزیراعظم سیباسٹین لیکورنو نے اعلان کیا کہ ٹریڈ یونینز اور آجروں کی تنظیموں کے ساتھ سماجی کانفرنس پیر کو ماتینیوں میں منعقد ہوگی۔ ملک گیر ہڑتال کے باعث اسکولوں اور جامعات میں بھی تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہوئیں۔ وزارت اعلیٰ تعلیم کے مطابق ملک کے 184 تعلیمی اداروں میں سے 60 میں سرگرمیاں متاثر ہوئیں، جبکہ ایس این ای ایس ایف ایس یو یونین نے دعویٰ کیا کہ مڈل اور ہائی اسکولوں کے 52 فیصد عملے نے ہڑتال میں حصہ لیا۔ مقامی میڈیا کے مطابق پیرس اور بورڈو سمیت مختلف شہروں میں طلبہ کی جانب سے تعلیمی اداروں کی ناکہ بندی ختم کرانے کے لیے پولیس نے مداخلت بھی کی۔ یہ احتجاجی سلسلہ طلبہ کی اس تحریک کے تناظر میں جاری ہے جو ستمبر کے وسط میں تعلیمی حالات، فنڈنگ اور عملے کی کمی کے خلاف شروع ہوئی تھی۔
