مغربی کنارہ، 24 اکتوبر 2026 (غفران): اسرائیلی فورسز نے جمعے کے روز مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر الخلیل میں عمارتیں مسمار کرنے اور رہائشیوں کو ایک محلے سے انخلا کے احکامات دینا شروع کر دیے، یہ کارروائی ایک فوجی چوکی پر فائرنگ کے واقعے میں دو اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت اور تین دیگر کے معمولی زخمی ہونے کے بعد شروع کی گئی۔ اسرائیلی فوج کے مطابق دو فلسطینی مسلح افراد نے حملہ کیا، جس کے بعد علاقے میں کئی روز پر مشتمل سکیورٹی آپریشن شروع کر دیا گیا۔ یہ واقعہ اسرائیل میں انتخابات سے محض چار روز قبل پیش آیا ہے، جس کے باعث وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے لیے سکیورٹی کا معاملہ ایک اہم سیاسی امتحان بن گیا ہے۔ نیتن یاہو نے سکیورٹی کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کرنے کی کوشش کی ہے۔ حملے کے بعد اسرائیلی فوج نے الخلیل کا مکمل محاصرہ کرنے کا اعلان کیا، جبکہ نیتن یاہو نے جمعے سے مقبوضہ مغربی کنارے کو مکمل طور پر بند کرنے کے احکامات دینے کا کہا۔ تاہم بعد میں انہوں نے اس منصوبے میں ممکنہ تبدیلی کا اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ الخلیل اور حلحول کے گرد حصار قائم کرنے پر غور کیا جا سکتا ہے، جس کا دائرہ دیگر علاقوں تک بھی بڑھایا جا سکتا ہے۔ نیتن یاہو نے مزید کہا کہ فوج حملے کے مقام والے محلے کے رہائشیوں کو زبردستی نکالے گی اور اس علاقے کی مکمل طور پر نئی شکل دی جائے گی۔ انہوں نے 2025 کے اوائل میں جنین، طولکرم، نور شمس اور الفارعہ کے پناہ گزین کیمپوں میں کی گئی کارروائیوں کا حوالہ دیا، جن کے دوران ہزاروں فلسطینی بے گھر ہوئے اور متعدد محلوں کو خالی کرایا گیا۔ اسرائیلی فوج اور اسرائیلی سکیورٹی ایجنسی نے الخلیل کے علاقے میں کئی روزہ انسدادِ دہشت گردی آپریشن شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ فورسز مبینہ دہشت گردانہ ڈھانچے اور اسلحے کی تلاش اور ان کے خاتمے کے لیے ہدفی تلاشی لے رہی ہیں، جبکہ مشتبہ افراد سے پوچھ گچھ بھی کی جا رہی ہے۔ حکام کے مطابق کارروائی اسی علاقے تک محدود رہے گی جہاں سے مبینہ طور پر مسلح افراد نے حملہ کیا تھا۔ رہائشیوں کو تین مقررہ راستوں سے باہر نکلنے کی اجازت دی جائے گی، تاہم انہیں پوچھ گچھ اور سکیورٹی جانچ کے مراحل سے گزرنا ہوگا، جبکہ مشتبہ افراد کو مزید تفتیش کے لیے سکیورٹی فورسز کے حوالے کیا جائے گا۔ حکام نے بتایا کہ سکیورٹی اقدامات میں حملہ آوروں کی رہائش گاہوں کی نقشہ بندی، الخلیل اور حلحول کے گرد حصار، سڑکوں پر رکاوٹیں قائم کرنا اور اطراف کے علاقوں میں انسدادِ دہشت گردی کارروائیاں بھی شامل ہیں۔ اسرائیلی فورسز نے ہدف بنائے گئے محلے میں ان عمارتوں کو بھی مسمار کرنا شروع کر دیا ہے جنہیں وہ غیر قانونی اور سکیورٹی کے لیے ممکنہ خطرہ قرار دیتی ہیں۔ عمارتوں کی مسماری، جبری انخلا اور نقل و حرکت پر پابندیاں مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں مزید شدت کی عکاسی کرتی ہیں۔ یہ آپریشن اسرائیلی انتخابات سے قبل بڑھتی ہوئی کشیدگی کے ماحول میں کیا جا رہا ہے، جبکہ نیتن یاہو کی حکومت کو سکیورٹی خطرات سے نمٹنے اور فلسطینیوں کے ساتھ جاری وسیع تر تنازعے سے متعلق اپنی پالیسی پر ایک بار پھر تنقید کا سامنا ہے۔
