
اسلام آباد، 11 اکتوبر 2026 (نوشین): یورپی یونین کو افغانستان کی طالبان انتظامیہ کے ساتھ روابط پر بڑھتی ہوئی تنقید کا سامنا ہے، جہاں خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ افغان مہاجرین کی ملک بدری کے لیے تعاون کی کوششیں انسانی حقوق، دہشت گردی کے خلاف اقدامات اور جامع طرز حکمرانی سے متعلق یورپی یونین کے اصولوں کو متاثر کرسکتی ہیں۔ جون 2026 میں برسلز میں یورپی حکام اور طالبان کے پانچ رکنی وفد کے درمیان مذاکرات کے بعد یہ بحث مزید شدت اختیار کرگئی۔ اطلاعات کے مطابق بیلجیئم، جرمنی اور سویڈن سمیت یورپی یونین کے بعض رکن ممالک نے ان مذاکرات کی حمایت کی، جن کا مقصد یورپ سے افغان شہریوں کی افغانستان واپسی میں سہولت فراہم کرنا تھا۔ تاہم ناقدین نے خبردار کیا کہ اس قسم کا تعاون کسی ٹھوس پیش رفت کے بغیر طالبان انتظامیہ کو بتدریج سفارتی جواز فراہم کرسکتا ہے۔ یورپی حکام نے ان مذاکرات کو طالبان حکومت کو باضابطہ تسلیم کرنے کے بجائے تکنیکی نوعیت کی بات چیت قرار دیا۔ اطلاعات کے مطابق طالبان وفد نے ملک بدری کے معاملات میں تعاون کے بدلے یورپی ممالک میں افغان قونصل خانوں کا انتظام اپنے کنٹرول میں دینے کا مطالبہ بھی کیا۔ طالبان کے 2021 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد یورپی یونین نے کسی بھی ممکنہ تسلیم کے لیے پانچ بنیادی شرائط مقرر کی تھیں، جن میں دہشت گردی کے خلاف اقدامات، انسانی حقوق، خواتین کے حقوق، لڑکیوں کی تعلیم اور ایک جامع حکومت کا قیام شامل ہیں۔ تاہم افغانستان میں تحریک طالبان پاکستان، داعش خراسان اور القاعدہ جیسی تنظیموں کی موجودگی کے حوالے سے خدشات برقرار ہیں۔ پاکستان نے بھی اقوام متحدہ میں افغان سرزمین سے سرگرم عسکریت پسندوں کے باعث سیکیورٹی خطرات پر تشویش ظاہر کی ہے اور 2025 کے دوران دہشت گردی کے ہزاروں واقعات اور 1,200 سے زائد ہلاکتوں کا حوالہ دیا ہے۔ انسانی حقوق کی صورتحال بھی تشویش ناک ہے، جہاں اطلاعات کے مطابق 26 لاکھ سے زائد افغان لڑکیاں ثانوی اور اعلیٰ تعلیم سے محروم ہیں، جبکہ خواتین کو روزگار اور عوامی زندگی میں شرکت کے حوالے سے سخت پابندیوں کا سامنا ہے۔ نسلی اور مذہبی اقلیتوں، خصوصاً شیعہ ہزارہ برادری، کے خلاف امتیازی سلوک اور پابندیوں پر بھی تحفظات سامنے آئے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی واپسی کو ترجیح دینے سے طالبان کی پوزیشن مضبوط ہوسکتی ہے اور اصلاحات کے لیے یورپی دباؤ کمزور پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ طالبان کے ساتھ روابط کو قابلِ تصدیق پیش رفت سے مشروط کیا جائے، جس میں دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کارروائی، لڑکیوں کی تعلیم کی بحالی اور اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ شامل ہو۔ اس صورتحال نے یورپی یونین کے سامنے یہ اہم سوال کھڑا کردیا ہے کہ آیا وہ انسانی حقوق اور سیکیورٹی کے اصولوں پر سمجھوتہ کیے بغیر مہاجرین سے متعلق عملی تعاون جاری رکھ سکتی ہے۔