
نیویارک، 24 ستمبر 2026 (غفران): ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے امریکا اور اسرائیل پر ایران کے خلاف جنگ اور شہریوں کو نشانہ بنانے کے الزامات عائد کیے اور کہا کہ ایران ہتھیار نہیں ڈالے گا۔ پیزشکیان نے خطاب کے آغاز میں آیت اللہ علی خامنہ ای اور مناب کے ایک اسکول پر امریکی حملے میں جاں بحق ہونے والے بچوں کی تصاویر پیش کیں، جبکہ ان کے خطاب کے دوران امریکی نمائندے جنرل اسمبلی سے باہر چلے گئے۔ ایرانی صدر نے الزام عائد کیا کہ امریکا نے تنازع کے دوران خواتین اور بچوں کو نشانہ بنایا اور اسکولوں، اسپتالوں اور شہری بنیادی ڈھانچے پر حملے کیے، جبکہ ایران میں بچوں کے خلاف کلسٹر بم استعمال کیے گئے۔ انہوں نے امریکا پر ایران کو دہشت گرد ریاست قرار دینے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایران خود دہشت گردی کا شکار رہا ہے۔ پیزشکیان نے امریکا اور اسرائیل پر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے حملے کرنے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ ایران نے ہتھیار نہیں ڈالے اور اسے کسی دوسرے ملک کی اجازت کے بغیر اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔ ایرانی صدر نے کہا کہ طاقتور ممالک عدم استحکام اور تباہی کے ذمہ دار ہیں اور جنگ کے ذریعے امن قائم نہیں کیا جا سکتا۔ ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے پیزشکیان نے کہا کہ تہران کا مقصد جوہری توانائی کا حصول ہے، جوہری ہتھیار بنانا نہیں، اور ایران پرامن جوہری ٹیکنالوجی کے حق سے دستبردار نہیں ہوگا۔ آبنائے ہرمز کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ایران اس آبی گزرگاہ کو اپنے خلاف حملوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ پیزشکیان نے ہمسایہ ممالک کے ساتھ مضبوط تعلقات کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایران انہیں سکیورٹی حریف نہیں سمجھتا۔ ایرانی صدر نے اسرائیل پر غزہ میں نسل کشی کا الزام بھی عائد کیا اور خطے میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں پر شدید تنقید کی۔