
سیول، 7 اکتوبر 2026 (نوشین): شمالی کوریا نے تائیوان کو امریکی اسلحے کی فروخت اور فوجی معاونت پر امریکا کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ واشنگٹن آبنائے تائیوان میں کشیدگی کو ہوا دے رہا ہے۔ شمالی کوریا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے سی این اے کے مطابق شمالی کوریا کے بین الاقوامی امور کے تجزیہ کار کم میونگ چول کے حوالے سے جاری کردہ تبصرے میں کہا گیا ہے کہ تائیوان سے متعلق امریکی پالیسی خطے میں امن و استحکام کو نقصان پہنچا رہی ہے، جبکہ تائیوان میں امریکی ساختہ جنگی طیاروں کی موجودگی کی بھی مذمت کی گئی۔ بیان میں واشنگٹن کو خبردار کیا گیا کہ اسے سوچنا چاہیے کہ آیا وہ تائیوان کی سلامتی کے لیے عوامی جمہوریہ چین کی طاقتور قومی قوت کے ساتھ براہ راست محاذ آرائی کے لیے تیار ہے اور اس کے نتائج سے نمٹ سکتا ہے۔ تائیوان کو گزشتہ ہفتے 2019 میں امریکا سے آرڈر کیے گئے 66 نئے ایف 16 وی بلاک 70 جنگی طیاروں میں سے پہلے دو طیارے موصول ہوئے تھے، ایسے وقت میں جب بیجنگ کی جانب سے فوجی دباؤ میں اضافہ ہورہا ہے۔ شمالی کوریا کے تازہ بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ تائیوان کے معاملے پر چین کے ساتھ اپنی ہم آہنگی مزید بڑھا رہا ہے، جو بیجنگ کی خارجہ پالیسی کے حساس ترین معاملات میں شامل ہے۔ چین تائیوان کو اپنی سرزمین کا حصہ قرار دیتا ہے، تاہم تائیوان کی حکومت چین کے خودمختاری کے دعوے کو مسترد کرتی ہے۔ شمالی کوریا نے حالیہ برسوں میں چین اور روس کے ساتھ اپنے تعلقات بھی مضبوط کیے ہیں، جس کے باعث امریکا اور ایشیا و مغرب میں اس کے اتحادیوں کے سکیورٹی خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔ جون میں پیانگ یانگ میں ہونے والی ملاقات کے دوران شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان نے چینی صدر شی جن پنگ کو یقین دہانی کرائی تھی کہ شمالی کوریا ’’ایک چین‘‘ کے اصول کی مکمل حمایت جاری رکھے گا۔ دوسری جانب کم جونگ ان نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو سالگرہ کے پیغام میں روس اور اس کی جنگی کوششوں کے لیے مسلسل حمایت کا بھی اعلان کیا۔ کے سی این اے کی ایک الگ رپورٹ کے مطابق کم جونگ ان نے کہا کہ شمالی کوریا روس کے ساتھ جامع تزویراتی شراکت داری کے تحت مشترکہ تعاون جاری رکھے گا اور انہیں یقین ہے کہ روس کی خودمختاری، سلامتی کے مفادات اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے ’’مقدس جنگِ انصاف‘‘ فتح پر منتج ہوگی۔ تاہم پیغام میں روس کی یوکرین کے خلاف جنگ کا واضح طور پر ذکر نہیں کیا گیا۔ یوکرینی اور جنوبی کوریائی اندازوں کے مطابق شمالی کوریا نے 2024 سے روس کی حمایت کے لیے یوکرین تنازع میں تقریباً 14 ہزار سے 15 ہزار فوجی بھیجے ہیں۔ جون 2024 میں باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط کے بعد شمالی کوریا اور روس کے تعلقات میں نمایاں تیزی سے مضبوطی آئی ہے۔