
سیول، 24 ستمبر 2026 (کامران راجہ): شمالی کوریا نے منگل کے روز جدید 240 ملی میٹر گائیڈڈ متعدد راکٹ لانچر سسٹم کا تجرباتی فائر کیا، شمالی کوریا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے سی این اے نے جمعرات کو رپورٹ کیا ہے، جس کے مطابق یہ نظام جنوبی سرحد پر ملک کی دفاعی فائر پاور کو مزید مضبوط بنائے گا۔ کے سی این اے کے مطابق تجربے کے دوران خودکار درست رہنمائی کے نظام سے لیس توسیع شدہ رینج کے راکٹوں کی درستگی اور کارکردگی کا مظاہرہ کیا گیا، جو ٹریجیکٹری فلائٹ موڈ میں 100 کلومیٹر جبکہ مشترکہ گلائیڈ موڈ میں 115 کلومیٹر تک اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ شمالی کوریا کی مرکزی فوجی کمیشن کے نائب چیئرمین پاک جونگ چون نے تجربے کی نگرانی کرتے ہوئے جنوبی سرحد پر انتہائی تباہ کن حملہ آور قوتوں کو مرکوز کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ شمالی کوریا مسلسل اپنے ٹیکٹیکل اور روایتی ہتھیاروں کے ذخیرے کو جدید بنا رہا ہے، جن میں جنوبی کوریا کی سرحد کے قریب تعیناتی کے لیے تیار کیے جانے والے ہتھیار بھی شامل ہیں۔ سیئول میں کیونگ نام یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ فار فار ایسٹرن اسٹڈیز کے پروفیسر لم یول چول کے مطابق درست رہنمائی کا نظام شمالی کوریا کو سیئول کے میٹروپولیٹن علاقے میں اہم تنصیبات کو چند میٹر کی معمولی غلطی کے ساتھ نشانہ بنانے کی صلاحیت دے سکتا ہے، جس سے گنجان آباد دارالحکومت کے علاقے کو ممکنہ خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔ جنوبی کوریا کی وزارت دفاع نے فوری طور پر تجربے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ دوسری جانب شمالی کوریا کی وزیر خارجہ چوئے سون ہوئی نے ایک الگ بیان میں کہا کہ ملک کی جوہری ہتھیاروں کی حیثیت ناقابل واپسی ہے اور امریکا، جنوبی کوریا اور جاپان کی جانب سے شمالی کوریا کی مکمل جوہری تخفیف کے عزم کا اعادہ کیے جانے کے بعد پیانگ یانگ اپنے مؤقف میں مزید پختگی اختیار کرے گا۔