Sunday, August 9

سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے مبینہ 44 کروڑ 66 لاکھ روپے کے فراڈ پر بلنک کیپیٹل مینجمنٹ کا کیس ایف آئی اے کو بھجوا دیا

اسلام آباد ,08 اگست, 2026,کامران راجہ): سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے سرمایہ کاروں کے مفادات کے تحفظ اور ملکی کیپیٹل مارکیٹ کی شفافیت برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے مبینہ مالی فراڈ کے معاملے پر میسرز بلنک کیپیٹل مینجمنٹ (پرائیویٹ) لمیٹڈ کا کیس مزید تحقیقات اور قانونی کارروائی کے لیے وفاقی تحقیقاتی ادارے کو بھجوا دیا ہے۔ چیئرمین سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان ڈاکٹر کبیر احمد صدیقی نے کہا ہے کہ کمیشن مارکیٹ میں بدعنوانی، ہیرا پھیری اور ریگولیٹری حیثیت کا غلط استعمال کرتے ہوئے سرمایہ کاروں کو گمراہ کرنے والے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ سرمایہ کاروں کے مفادات کا تحفظ اولین ترجیح ہے اور مارکیٹ یا سرمایہ کاروں کے اعتماد کا غلط استعمال کرنے والوں کے خلاف تمام ضروری ریگولیٹری اور قانونی اقدامات کیے جائیں گے۔

بلنک کیپیٹل مینجمنٹ پاکستان مرکنٹائل ایکسچینج لمیٹڈ کی لائسنس یافتہ فیوچرز بروکر اور مارکیٹ میکر کمپنی تھی۔ ایس ای سی پی نے سرمایہ کاروں کی شکایات کے بعد فیوچرز مارکیٹ ایکٹ 2016 کی دفعہ 83 کے تحت تحقیقات شروع کیں۔ شکایات میں مقررہ منافع اور اصل رقم کی یقینی واپسی کے وعدوں پر غیر مجاز طور پر رقوم وصول کرنے کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔ تحقیقات کے دوران 35 شکایت کنندگان نے مجموعی طور پر 44 کروڑ 66 لاکھ 64 ہزار روپے کے دعوے جمع کرائے۔ مزید تفصیلی مالیاتی ریکارڈ سے 29 شکایت کنندگان سے متعلق تقریباً 40 کروڑ 86 لاکھ روپے کی رقوم کا سراغ ملا۔ تحقیقات کے مطابق یہ رقوم بلنک کیپیٹل مینجمنٹ، اس کے اس وقت کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اور ڈائریکٹر کے اکاؤنٹس سمیت بعض ملازمین اور متعلقہ افراد کے اکاؤنٹس میں منتقل کی گئیں، جبکہ قابلِ ذکر رقوم نقد بھی نکلوائی گئیں۔

تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ سرمایہ کاروں کے ساتھ ایسے معاہدے کیے گئے جن میں ماہانہ 3.7 فیصد سے سالانہ 48 فیصد تک مقررہ منافع دینے کی پیشکش کی گئی، جبکہ اصل رقم کی واپسی کی ضمانت کے طور پر بعد از تاریخ چیکس بھی جاری کیے گئے۔ دستیاب شواہد کی بنیاد پر تحقیقات میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ بلنک کیپیٹل مینجمنٹ مبینہ طور پر پونزی طرز کے فراڈ پر مبنی سرمایہ کاری اسکیم چلا رہی تھی، جس میں غیر قانونی طور پر رقوم جمع کی گئیں اور کمپنی کی لائسنس یافتہ سرگرمیوں سے باہر رہتے ہوئے یقینی منافع کی پیشکش کی گئی۔تحقیقات میں کمپنیز ایکٹ 2017، فیوچرز مارکیٹ ایکٹ 2016 اور فیوچرز بروکرز (لائسنسنگ اینڈ آپریشنز) ریگولیشنز 2018 کی ممکنہ خلاف ورزیوں کی نشاندہی بھی کی گئی۔

کیس کی سنگینی کے پیش نظر ایس ای سی پی نے ایس ای سی پی ایکٹ 1997 کی دفعہ 41B کے تحت معاملہ مزید تحقیقات اور قانون کے مطابق کارروائی کے لیے FIA کو بھجوانے کی منظوری دے دی ہے، تاکہ سرمایہ کاروں کی شکایات کا ازالہ کیا جا سکے۔ایس ای سی پی نے عوام کو بھی خبردار کیا ہے کہ وہ غیر مجاز سرمایہ کاری اسکیموں سے محتاط رہیں اور بالخصوص ایسے منصوبوں میں سرمایہ کاری سے گریز کریں جو مقررہ یا یقینی منافع اور اصل رقم کی ضمانت شدہ واپسی کا وعدہ کرتے ہوں۔