اسلام آباد، 6 نومبر 2026 (کامران راجہ): اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے پاکستان کی جانب سے پیش کردہ صدارتی بیان منظور کر لیا ہے، جس میں ممالک پر زور دیا گیا ہے کہ وہ مسلح تنازعات شروع ہونے کے بعد بھی سفارتی رابطوں اور مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھیں۔ بیان میں جنگ بندی، کشیدگی میں کمی اور دیرپا سیاسی حل کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے۔ ’’فعال جنگی حالات کے دوران سفارت کاری کا کردار‘‘ کے عنوان سے منظور کیے گئے اس بیان میں شہریوں کے تحفظ، تشدد پر قابو پانے، تنازعات کو پھیلنے سے روکنے اور جنگ زدہ علاقوں تک انسانی امداد کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے سفارتی کوششوں کو ناگزیر قرار دیا گیا ہے۔ بیان میں ممالک پر زور دیا گیا ہے کہ وہ ثالثی، خیرسگالی کے اقدامات اور متحارب فریقین کے درمیان براہ راست یا بالواسطہ رابطوں کے ذریعے کشیدگی کم کریں اور فوجی کارروائیوں کے دوران بھی مذاکرات کے مواقع پیدا کریں۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر سید حیدر شاہ نے بیان کی منظوری کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے تنازعات کے پُرامن حل کے لیے عالمی کوششوں میں اہم پیش رفت قرار دیا۔ منظوری کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس صدارتی بیان کا پیغام واضح اور مؤثر ہے کہ جنگ شروع ہونے پر سفارت کاری ختم نہیں ہونی چاہیے بلکہ ایسے حالات میں اس کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ یہ بیان نومبر میں سلامتی کونسل کی صدارت کرنے والی لٹویا کی سفیر سانیٹا پاولوتا ڈیس لینڈز کی سربراہی میں منظور کیا گیا۔ پاکستان کا یہ اقدام سلامتی کونسل کی قرارداد 2788 پر مبنی ہے، جو جولائی 2025 میں پاکستان کی کونسل کی صدارت کے دوران متفقہ طور پر منظور کی گئی تھی اور جس میں اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق بین الاقوامی تنازعات کے پُرامن حل کی اہمیت کی توثیق کی گئی تھی۔ سابقہ قرارداد میں تنازعات کے پُرامن تصفیے پر توجہ دی گئی تھی، جبکہ تازہ بیان میں مسلح تصادم شروع ہونے کے بعد بھی سفارتی رابطے برقرار رکھنے کی ضرورت کو اجاگر کیا گیا ہے، کیونکہ ایسے حالات میں مخالف فریقین کے درمیان رابطے اکثر منقطع ہو جاتے ہیں اور کشیدگی بڑھنے کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔ سلامتی کونسل نے اس بات پر زور دیا کہ متحارب فریقین کے درمیان براہ راست یا ثالثوں کے ذریعے رابطے کے ذرائع کھلے رکھے جائیں تاکہ غلط فہمیوں اور غلط اندازوں سے بچا جا سکے، کشیدگی کم ہو اور سیاسی مذاکرات کی راہ ہموار کی جا سکے۔ بیان میں فعال جنگی حالات کے دوران سفارت کاری کے اہم مقاصد میں جنگ بندی، محفوظ اور بلا رکاوٹ انسانی امداد کی فراہمی، شہریوں کا تحفظ اور تنازعات کو علاقائی یا بین الاقوامی سطح تک پھیلنے سے روکنا شامل کیا گیا ہے۔ اس میں واضح کیا گیا ہے کہ جنگ بندی کے بعد بھی سفارتی کوششیں جاری رہنی چاہئیں تاکہ دیرپا سیاسی تصفیہ ممکن بنایا جا سکے۔ سلامتی کونسل نے اقوام متحدہ کے رکن ممالک کی بھی حوصلہ افزائی کی کہ وہ کشیدگی کم کرنے اور مسلح تنازعات کو پُرامن حل میں تبدیل کرنے کے لیے ثالثی اور سفارتی اقدامات کریں۔ کونسل نے تنازعات کے حل میں علاقائی اور ذیلی علاقائی تنظیموں کے کردار کو بھی تسلیم کرتے ہوئے ان کی ثالثی کی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے اور اقوام متحدہ کے ساتھ تعاون بڑھانے کی کوششوں کا خیرمقدم کیا۔ بیان میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل، ان کے نمائندوں، خصوصی ایلچیوں اور ثالثوں کے کردار کو بھی اہم قرار دیا گیا، جو مسلح تنازعات سے قبل اور ان کے دوران مذاکرات اور پُرامن تصفیے کو فروغ دینے میں معاونت کرتے ہیں۔ بیان میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ تمام سفارتی اقدامات اقوام متحدہ کے چارٹر، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق ہونے چاہئیں۔ اس کے علاوہ عالمی عدالت انصاف سمیت اقوام متحدہ کے دیگر اداروں کے کردار کو بھی تسلیم کیا گیا، جو ان ریاستوں کے درمیان تنازعات کے پُرامن حل میں معاونت کرتے ہیں جنہوں نے اس کے دائرہ اختیار کو قبول کر رکھا ہے۔ سفیر سید حیدر شاہ نے کہا کہ اس بیان کی منظوری سے مختلف تنازعات سے نمٹنے کے حوالے سے سلامتی کونسل کے تجربات کو ایک مشترکہ فریم ورک میں یکجا کیا گیا ہے، جو موجودہ اور مستقبل کے تنازعات میں سفارتی اقدامات کے لیے ایک اہم سیاسی رہنما اصول فراہم کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام کثیرالجہتی نظام، مذاکرات اور بین الاقوامی تنازعات کے پُرامن حل کے لیے پاکستان کے عزم کا عکاس ہے۔ سلامتی کونسل نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل پر بھی زور دیا کہ وہ سفارت کاری، ثالثی اور تنازعات کے پُرامن حل کے لیے کوششیں جاری رکھیں اور متعلقہ پیش رفت سے مناسب وقت پر کونسل کو آگاہ کرتے رہیں۔
