
واشنگٹن، 3 اکتوبر 2026 (کامران راجہ): جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے تحفظات رکھنے والے امریکی سینیٹرز نے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ جوہری توانائی معاہدے پر ووٹنگ کے لیے پیش رفت حاصل کر لی گئی ہے اور توقع ہے کہ اس معاہدے پر 13 دسمبر سے قبل ووٹ ہوگا۔ ’123 ایگریمنٹ‘ کے نام سے معروف یہ معاہدہ اگست کے آخر میں کانگریس میں پیش کیا گیا تھا، جبکہ سینیٹ کے ریکارڈ میں 14 ستمبر کو اس کی اشاعت کے بعد سینیٹرز کو معاہدے کا جائزہ لینے اور ممکنہ طور پر اسے مسترد کرنے کی قرارداد پیش کرنے کے لیے 90 دن کی مدت حاصل ہوئی۔ سینیٹر جیف مرکلے نے کہا کہ سینیٹ کو یہ جائزہ لینے کا موقع ملے گا کہ یہ معاہدہ مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی دوڑ کے خطرے اور عالمی سطح پر جوہری عدم پھیلاؤ کی کوششوں پر کس طرح اثر انداز ہو سکتا ہے۔ مرکلے کے مطابق انہوں نے ڈیموکریٹک سینیٹرز ٹم کین، ایڈ مارکی، کرس کونز اور کرس وان ہولن کے علاوہ ریپبلکن ارکان کے ساتھ مل کر ووٹنگ یقینی بنانے کے لیے کام کیا۔ بعض امریکی قانون سازوں اور جوہری عدم پھیلاؤ کے حامیوں نے خدشات ظاہر کیے ہیں کہ معاہدے میں سعودی عرب کو یورینیم افزودہ کرنے یا جوہری فضلے کو دوبارہ پراسیس کرنے سے واضح طور پر روکنے کی شق شامل نہیں، جبکہ یہ دونوں سرگرمیاں جوہری ہتھیار بنانے کی ممکنہ راہ فراہم کر سکتی ہیں۔ متحدہ عرب امارات نے 2009 میں امریکا کے ساتھ سول جوہری معاہدے میں ایسی پابندیاں قبول کی تھیں۔ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کہہ چکے ہیں کہ سعودی عرب جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا، تاہم اگر ایران جوہری ہتھیار حاصل کرتا ہے تو ریاض بھی ایسا کرنے پر غور کر سکتا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مجوزہ معاہدے میں امریکی قانون کے تحت ضروری جوہری عدم پھیلاؤ کے اقدامات شامل ہیں۔ معاہدے کے حوالے سے یہ سوال بھی اٹھایا گیا ہے کہ آیا سعودی عرب کو اس معاہدے کے نفاذ کے لیے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانا ہوں گے۔ ٹرمپ کہہ چکے ہیں کہ معاہدہ اسی صورت میں نافذ ہوگا جب ریاض اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لائے گا، تاہم کانگریس کے معاونین کے مطابق جوہری معاہدے میں اس معاملے کا براہ راست ذکر نہیں ہے۔ امریکی سینیٹرز، جن میں ڈیموکریٹس اور ریپبلکنز دونوں شامل ہیں، نے گزشتہ ماہ ٹرمپ انتظامیہ سے مطالبہ کیا تھا کہ سعودی عرب کے ساتھ معاہدے سے متعلق تمام معلومات، جن میں دو خفیہ ’سائیڈ لیٹرز‘ بھی شامل ہیں، کو خفیہ دستاویزات سے نکال کر عوام کے سامنے لایا جائے۔