
اسلام آباد، 11 اکتوبر 2026 (کامران راجہ): یمن کی حوثی تحریک نے ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر مہلک حملے کے بعد فضائی کمپنیوں، مسافروں اور ہوائی اڈوں کے عملے کو سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور فضائی حدود سے دور رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے اپنے انتباہ کی تجدید کردی ہے۔ حملے میں اطلاعات کے مطابق 12 افراد ہلاک جبکہ 300 سے زائد زخمی ہوئے۔ اسے ایک دہائی سے زائد عرصے کے دوران سعودی عرب میں اپنی نوعیت کا مہلک ترین حملہ قرار دیا جارہا ہے۔ یہ واقعہ ایران کی حمایت یافتہ حوثی تحریک اور سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومتی فورسز کے درمیان بڑھتی ہوئی جھڑپوں کے دوران پیش آیا۔ حوثیوں نے اتوار کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں خبردار کیا کہ سعودی ہوائی اڈے اور فضائی حدود حملوں کا نشانہ بن سکتے ہیں، تاہم مقدس شہروں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے ہوائی اڈوں کو اس انتباہ سے مستثنیٰ قرار دیا گیا۔ حوثیوں نے یہ بھی کہا کہ حملوں کو روکنے میں ناکامی کی صورت میں سعودی عرب ذمہ دار ہوگا۔ دوسری جانب سعودی عرب نے حالیہ ہفتوں کے دوران یمن میں اپنی فوجی کارروائیاں تیز کردی ہیں اور گزشتہ ماہ بحیرہ احمر کے ساحل کے ساتھ اہم علاقوں پر حوثیوں کے قبضے کے بعد یمنی حکومت کی جوابی کارروائیوں کی حمایت کرتے ہوئے حوثی ٹھکانوں پر حملے کیے ہیں۔ حوثیوں کے زیر انتظام وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ یمن میں سعودی فوجی کارروائیوں کا دائرہ بڑھنے کی صورت میں مزید سخت ردعمل دیا جائے گا اور کارروائیوں میں جوابی اقدام کے اصول کو مدنظر رکھا جائے گا۔ رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ہفتے کے روز کہا کہ واشنگٹن حوثیوں کے خلاف سعودی حملوں میں شامل ہونے پر غور کر رہا ہے۔ یہ تنازع ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے فروری میں شروع کی گئی وسیع تر جنگ کے اثرات سے بھی جڑتا جارہا ہے۔ ادھر سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے بتایا کہ ایک میزائل نما گولہ دمام کے شاہ فہد بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قریب گرا، جبکہ اتوار کو مشرقی صوبے میں ایک ڈرون بھی روک لیا گیا۔ حملے کے بعد ریاض کے شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر پروازوں کی سرگرمیاں عارضی طور پر معطل کردی گئیں۔ تاہم سعودی حکام کے مطابق پہلے سے طے شدہ بین الاقوامی توانائی کانفرنس شیڈول کے مطابق جاری رہے گی۔ پانچ روزہ ڈبلیو پی سی انرجی کانگریس میں وزرا، کاروباری اداروں کے اعلیٰ عہدیداروں اور بین الاقوامی توانائی تنظیموں کے نمائندوں کی شرکت متوقع ہے۔ سعودی حکام نے طلبہ، اساتذہ اور انتظامی عملے کے لیے اتوار سے جمعرات تک تعلیمی اداروں میں حاضری معطل کرکے آن لائن تعلیم کا اعلان بھی کیا۔ سعودی حکام کے مطابق ہفتے کے روز ہونے والے حملے میں ہلاک ہونے والوں میں چار سعودی اور دو بنگلہ دیشی شہری شامل تھے، جبکہ امریکہ، اردن، فلسطین، شام، سوڈان اور مصر کے شہری بھی جان سے گئے۔ سعودی شہری ہوا بازی کے حکام نے کہا کہ نقصان اور حفاظتی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ہوائی اڈے کی سرگرمیاں عارضی طور پر روک دی گئی ہیں، تاہم پروازوں کی بحالی کے لیے کوئی حتمی وقت نہیں بتایا گیا۔ ایک ہفتے کے دوران ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر یہ تیسرا رپورٹ شدہ حملہ تھا۔ اس سے قبل ہونے والے حملوں میں چار افراد ہلاک ہوئے تھے اور رن وے پر کھڑے سعودی تجارتی طیارے کو شدید نقصان پہنچا تھا۔