
ماسکو، 18 اگست 2026 (غفران): روس کی وزارت خارجہ نے منگل کے روز جاپانی سفیر اکیرا موتو کو طلب کرکے صدر ولادیمیر پیوٹن کے متنازع جزائرِ کوریل کے دورے پر ٹوکیو کی مذمت کے خلاف احتجاج کیا۔ بحرالکاہل میں واقع یہ جزائر روس کے زیر انتظام ہیں تاہم جاپان بھی ان پر ملکیت کا دعویٰ کرتا ہے۔پیوٹن نے گزشتہ ہفتے ایتوروپ کا دورہ کیا تھا، جو اس جزیرے کے سلسلے کے چار جنوبی ترین جزیروں میں سے ایک ہے۔ جاپان اسے ایتوروفو جبکہ ان چاروں جنوبی جزیروں کو ’’شمالی علاقے‘‘ قرار دیتا ہے۔ سوویت یونین نے دوسری جنگ عظیم کے آخری دنوں میں یہ جزائر جاپان سے قبضے میں لیے تھے، جبکہ ان علاقوں پر تنازع کے باعث ماسکو اور ٹوکیو کے درمیان جنگی دشمنی کے باضابطہ خاتمے کے لیے امن معاہدہ طے نہیں پاسکا۔جاپانی وزیراعظم سانائے تاکائیچی نے پیوٹن کے دورے کو شمالی علاقوں سے متعلق جاپان کے مؤقف سے متصادم قرار دیتے ہوئے اسے ’’بالکل ناقابل قبول‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس دورے سے یوکرین جنگ سمیت پہلے ہی کشیدہ روس جاپان تعلقات کو مزید نقصان پہنچا ہے۔ جاپانی وزیر خارجہ توشیمتسو موٹے گی نے بھی پیوٹن کے دورے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے جاپان کے اس مؤقف کا اعادہ کیا کہ شمالی علاقے، بشمول ایتوروفو جزیرہ، تاریخی اور بین الاقوامی قانون کے تحت جاپان کا اٹوٹ حصہ ہیں۔جواب میں روس کے نائب وزیر خارجہ میخائل گالوزین نے جاپانی سفیر اکیرا موتو سے ملاقات کی اور تاکائیچی اور موٹے گی کے روس مخالف بیانات پر باضابطہ احتجاج ریکارڈ کرایا۔
روسی وزارت خارجہ کے مطابق گالوزین نے جاپانی سفیر کو بتایا کہ جنوبی کوریل جزائر پر روس کی خودمختاری اور دائرہ اختیار ’’بالکل ناقابل تسخیر‘‘ ہے۔ وزارت نے کہا کہ دوسری جنگ عظیم کے نتیجے میں اتحادی طاقتوں کے متعلقہ معاہدوں اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت یہ علاقے روس کا حصہ بنے۔ روس نے خبردار کیا کہ جاپان کی جانب سے اس حقیقت پر براہ راست یا بالواسطہ سوال اٹھانے کی کوئی بھی کوشش ’’بالکل ناقابل قبول اور غیر قانونی‘‘ ہے۔ گالوزین نے اکیرا موتو کو مزید بتایا کہ روس کے خلاف مغربی پابندیوں پر جاپان کی مسلسل عملداری اور یوکرین کی حمایت کے پیش نظر ماسکو مناسب جوابی اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔متنازع علاقوں کے حل کے لیے کئی دہائیوں سے جاری سفارتی کوششیں اب تک کسی قابل ذکر معاہدے تک نہیں پہنچ سکیں۔ روس نے گزشتہ برسوں کے دوران کوریل جزائر پر اپنی فوجی موجودگی بھی مضبوط کی ہے، جس سے اس تنازع پر ماسکو کے سخت مؤقف کی عکاسی ہوتی ہے۔ پیوٹن نے گزشتہ ہفتے بحرالکاہل میں فوجی مشقوں میں شریک ایک روسی جنگی جہاز پر گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ماسکو نے ماضی میں جاپان کے کئی رہنماؤں کے ساتھ تعمیری تعلقات قائم کیے، جن میں سابق جاپانی وزیراعظم شنزو آبے بھی شامل تھے۔ ان کے بقول آبے نے جاپان اور روس کو قریب لانے اور دونوں ممالک کے مؤقف میں ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے نمایاں کوششیں کی تھیں۔