Thursday, September 24

خیبر پختونخوا پولیس ایکٹ وفاقی قوانین سے متصادم ہے، بیرسٹر عقیل ملک

KP Police Act conflicts with federal laws, says Barrister Aqeel Malik

اسلام آباد، 24 ستمبر, 2026 (نوشین): وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے مجوزہ خیبر پختونخوا پولیس ایکٹ پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ قانون وفاقی قوانین سے متصادم ہے اور اس میں آئینی و قانونی تحفظات پائے جاتے ہیں۔ اختر ولی خان کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ مجوزہ قانون سیاسی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے اور اس کا مقصد پولیس فورس کو صوبائی حکومت کے ماتحت لانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس سروس آف پاکستان (پی ایس پی) افسران کی تعیناتی وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے اور اس حوالے سے کوئی نیا طریقہ کار متعارف کرانے کی کوشش آئین و قانون کے منافی ہوگی۔ بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ ’’مجوزہ خیبر پختونخوا پولیس ایکٹ کو سیاسی رنگ دیا گیا ہے‘‘ اور اس کا مقصد پولیس فورس کو صوبائی حکومت کے ماتحت کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں وفاقی قانون لاگو ہوتا ہے وہاں صوبائی حکومت پی ایس پی افسران کی تعیناتی اور تقرری کے انتظامات میں یکطرفہ تبدیلی نہیں کر سکتی۔ وزیر مملکت نے خبردار کیا کہ مجوزہ قانون ایک نئی مثال قائم کر سکتا ہے اور اس بات پر زور دیا کہ آئینی اور قانونی تقاضوں کا احترام کیا جانا چاہیے۔