
پشاور، 12 اکتوبر 2026 (نوشین): خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد صوبائی بیوروکریسی اور پولیس کے محکموں میں بڑے پیمانے پر اکھاڑ پچھاڑ کے دوران ایڈووکیٹ جنرل آفس کے 57 افسران کو عہدوں سے ہٹا دیا گیا ہے۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل شاہ فیصل الیاس اس سے قبل صوبے میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے فیصلے کے خلاف احتجاجاً استعفیٰ دے چکے تھے۔ ایمرجنسی اور گورنر راج کا فیصلہ آئین پاکستان کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت وزیراعظم کی سفارش پر صدر کی منظوری کے بعد کیا گیا۔ فیصلے کے فوراً بعد وفاقی حکومت نے صوبے کے انتظامی ڈھانچے میں متعدد تبدیلیاں کیں۔ خیبر پختونخوا کے چیف سیکریٹری شہاب علی شاہ کو عہدے سے ہٹا کر گریڈ 22 کے افسر ڈاکٹر محمد فخر عالم عرفان کو نیا چیف سیکریٹری مقرر کر دیا گیا، جبکہ صوبے بھر میں متعدد بیوروکریٹس اور پولیس افسران کے تبادلے اور تقرریاں بھی کی گئیں۔ وفاقی حکومت نے آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت صوبے میں پاک فوج کی تعیناتی کا حکم بھی جاری کیا ہے، جس کا مقصد سول انتظامیہ کی معاونت اور شہریوں، سرکاری املاک اور سرکاری تنصیبات کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کے مطابق نئے انتظامی نظام کے تحت گورنر فیصل کریم کنڈی کی معاونت کے لیے 11 رکنی مشاورتی کونسل بھی قائم کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ سکیورٹی کے حوالے سے حساس 12 اضلاع کے انتظامی امور کی نگرانی کے لیے الگ سیکریٹریٹ قائم کیا گیا ہے۔ محمد یحییٰ اخونزادہ کو ان اضلاع کے لیے ایڈیشنل چیف سیکریٹری مقرر کرنے کے ساتھ ان کا منتظم بھی نامزد کیا گیا ہے، جبکہ ان کی تقرری فوری طور پر مؤثر ہو گئی ہے۔ صوبائی محکمہ قانون کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق 26 ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرلز، چار ایڈووکیٹس آن ریکارڈ اور 31 اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرلز کو ان کے عہدوں سے ہٹا دیا گیا ہے۔
عہدوں سے ہٹائے گئے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرلز میں نعمان الحق کاکاخیل، عقیل حسین، ایم ریاض خان پائندہ خیل، عامر زیب، ایوب زمان، عبدالروف آفریدی، عمیر اعظم خان، مدثر اعجاز، ندیم شاہ، اسد جان درانی، تیمور حیدر، نیاز محمد، ایم شہزاد نواز، عالم خان اڈنزی، مہرین منور/مہریش منور، نصیرالدین شاہ، شاہ فیصل الیاس، الطاف خان، مزمل خان، محمد بشار نوید، سردار بشارت خان، ملک امجد عنایت، غلام محمد سپل، حق نواز خان، منصور صادق اور سیف الرحمٰن شامل ہیں۔ ایڈووکیٹس آن ریکارڈ میں زاہد یوسف قریشی، ایم اجمل خان، فرید اللہ کنڈی اور ملک اختر حسین اعوان کو عہدوں سے ہٹایا گیا ہے۔ اسی طرح اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرلز میں تسکین الدین خٹک، جاوید خان، جاوید اللہ، یاسر خالد، بلال خان، رحمت علی، ارباب فخر عالم، حمیرا گل، جواد علی، ارشد اعظم، فرحان قدیر، وقار اورکزئی، عمر خان، عابد الرحمٰن، شاہد خان، سید بلال شفیع اندرابی، مشتاق رحیم، عامر خان، شعیب علی، یاسر سلیم، ایم عدنان شیر، انعام اللہ خان، احمد ابو حنیفہ امام، رحیم اللہ، کمال، محمد فرقان، عمران خان، نجیب اللہ، عبدالوحید، ارشاد احمد خان اور عبد القیوم شامل ہیں۔ گورنر راج کے نفاذ کے بعد ہونے والی ان تبدیلیوں کو صوبے کے قانونی اور انتظامی ڈھانچے کی بڑی تنظیم نو قرار دیا جا رہا ہے۔