Saturday, September 12

حوثیوں کی پریم جزیرے تک رسائی، باب المندب پر گرفت مضبوط ہونے کا خدشہ

Houthis Reach Strategic Perim Island, Tightening Grip on Vital Red Sea Shipping Route

عدن/دبئی، 12 ستمبر 2026 (کامران راجہ): ایران نواز حوثی فورسز یمن کی آبنائے باب المندب میں واقع اہم تزویراتی جزیرے پریم تک پہنچ گئی ہیں۔ یمنی حکومت کے چار ذرائع نے جمعہ کو رائٹرز کو بتایا کہ اس پیش رفت سے دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شامل باب المندب اور بحیرۂ احمر کے راستے پر حوثیوں کی گرفت مزید مضبوط ہو سکتی ہے۔ سعودی عرب کی حمایت یافتہ اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کے دو ذرائع کے مطابق سرکاری فورسز پریم سے پیچھے ہٹ گئی ہیں، جبکہ حوثیوں نے جزیرے کے سامنے واقع بحیرۂ احمر کے ساحلی شہر ذباب پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔ اس پیش رفت کے عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل پر اہم اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، کیونکہ باب المندب آبنائے پر کنٹرول ایران اور اس کے حوثی اتحادیوں کو بحیرۂ احمر اور خلیج عدن کے درمیان اہم بحری راستے پر مزید دباؤ ڈالنے کا موقع فراہم کر سکتا ہے۔ آبنائے ہرمز میں تجارتی سرگرمیوں میں خلل کے بعد بحیرۂ احمر کا راستہ مزید اہم ہو گیا ہے، کیونکہ آبنائے ہرمز عالمی تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل کے لیے ایک اہم گزرگاہ ہے۔ تازہ پیش رفت ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی کشیدگی اور خلیجی بحری جہاز رانی کو متاثر کرنے والے حملوں کے دوران سامنے آئی ہے۔ ایران نے تصدیق کی ہے کہ اس کے نمائندے عراق اور خلیجی عرب ریاستوں کے حکام کے ہمراہ پیر کو عمان میں ملاقات کریں گے، جس میں آبنائے ہرمز کے ذریعے تجارتی بحری راستوں کو محفوظ بنانے کے لیے مذاکرات دوبارہ شروع کیے جائیں گے۔