
لندن، 2 اکتوبر 2026 (غفران): برطانوی انسداد دہشت گردی پولیس نے رائل ایئر فورس فیئر فورڈ سے متعلق مبینہ دہشت گردی کی سازش کی تحقیقات کے دوران لندن سے 25 سالہ برطانوی-ایرانی دوہری شہریت رکھنے والے شخص کو گرفتار کر لیا ہے۔ یہ گرفتاری اس واقعے کے بعد عمل میں آئی ہے جس میں اتوار کو مغربی انگلینڈ میں واقع ایئر بیس کے قریب 20 سال کی عمر کے پانچ برطانوی افراد کو دہشت گردی اور دھماکہ خیز مواد سے متعلق جرائم کے شبہ میں حراست میں لیا گیا تھا۔ پانچوں افراد کو بعد ازاں بغیر فرد جرم عائد کیے پولیس ضمانت پر رہا کر دیا گیا، تاہم تفتیش کار اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا اس واقعے میں کسی غیر ملکی ریاست کا کردار تھا۔ برطانوی انسداد دہشت گردی پولیس کی سینئر نیشنل کوآرڈینیٹر وکی ایونز نے کہا کہ گلوسٹر شائر میں پیش آنے والے واقعات کی تحقیقات انتہائی پیچیدہ ہیں اور ماہر ٹیمیں مختلف پہلوؤں سے تفتیش کر رہی ہیں، جن میں ممکنہ غیر ملکی ریاست کا ملوث ہونا بھی شامل ہے۔ پولیس نے اتوار کی علی الصبح مختلف اطلاعات موصول ہونے کے بعد بڑے پیمانے پر کارروائی شروع کی تھی، جن میں ایک مقامی خاتون کسان کی اطلاع بھی شامل تھی جسے تین وینز میں ایئربیس کے قریب موجود افراد پر شبہ ہوا۔ تفتیش کاروں نے تصدیق کی ہے کہ ان افراد کے زیر استعمال وینز سے پٹرول برآمد ہوا، تاہم کوئی دیسی ساختہ دھماکہ خیز آلہ نہیں ملا۔ پولیس اس اطلاع کا بھی جائزہ لے رہی ہے کہ گرفتار کیے جانے سے کچھ دیر قبل ان افراد میں سے ایک نے ہنگامی خدمات سے رابطہ کیا تھا۔ واقعے کے بعد برطانیہ اور اس کے مغربی اتحادیوں میں تشویش پیدا ہوئی ہے، جبکہ برطانوی حکام نے امریکہ کے ساتھ قریبی رابطہ برقرار رکھا ہے۔ امریکی بمبار طیاروں نے حالیہ مہینوں میں ایران کے خلاف کارروائیوں کے لیے فیئر فورڈ کو استعمال کیا ہے۔ ایران نے اس واقعے میں ملوث ہونے کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے تہران میں برطانوی سفیر کو بھی طلب کیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اس واقعے میں کسی غیر ملکی فریق کے ممکنہ کردار کی جانب اشارہ کیا ہے، تاہم برطانوی حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات جاری ہیں اور تمام ممکنہ پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔