Saturday, August 22

ایران کی امریکی پابندیوں پر تباہ کن فوجی ردعمل کی دھمکی

Iran Threatens Devastating Military Response to New US Sanctions

تہران، 22 اگست 2026 (کامران راجہ): ایران نے خبردار کیا ہے کہ امریکا کی جانب سے کسی بھی نئے خطرے کے جواب میں ’’تباہ کن‘‘ ردعمل دیا جائے گا۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب واشنگٹن نے تہران کے خلاف تاریخ کی سخت ترین مالی پابندیاں عائد کرنے کی تیاری شروع کر دی ہے۔ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ وہ پیر کو مجوزہ پابندیوں کی تفصیلات فراہم کریں گے۔ اس سے قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ ایران کو کسی بھی قسم کی معاشی مدد یا سہارا فراہم کرنے والے ممالک کو اقتصادی نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایرانی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف میجر جنرل علی عبداللہی نے کہا کہ ایران کسی بھی نئے امریکی خطرے کا وسیع اور فیصلہ کن جواب دے گا۔ ایرانی میڈیا کے مطابق میجر جنرل علی عبداللہی نے کہا کہ ایران کی مسلح افواج زمینی، بحری، فضائی، فضائی دفاع اور سائبر شعبوں میں مکمل طور پر تیار ہیں اور دشمن کے نئے خطرات کا سخت اور تباہ کن انداز میں جواب دیں گی۔ ایرانی رہنماؤں اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مسلسل سخت اور دھمکی آمیز بیانات سامنے آ رہے ہیں، جبکہ کشیدگی کے باوجود تنازع میں اب تک کسی فریق کو فیصلہ کن برتری حاصل نہیں ہو سکی۔ امریکی فوجی حملوں کے نتیجے میں ایران کی معیشت اور روایتی عسکری صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچا ہے، تاہم تہران کے پاس اب بھی میزائل اور ڈرونز کی قابل ذکر صلاحیت موجود ہے، جس کے ذریعے آبنائے ہرمز میں تیل بردار بحری جہازوں کی آمدورفت متاثر کرنے اور خطے میں اپنے مخالفین کو نشانہ بنانے کی صلاحیت برقرار ہے۔ بڑھتی ہوئی کشیدگی نے خلیجی ممالک کو بھی متاثر کیا ہے اور عالمی توانائی کی فراہمی اور ایندھن کی قیمتوں کے حوالے سے خدشات میں اضافہ کیا ہے۔ تازہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب واشنگٹن ایران کے خلاف مزید اقتصادی اقدامات کی تیاری کر رہا ہے، جبکہ تہران نے واضح کیا ہے کہ امریکا کی جانب سے مزید کسی کارروائی کی صورت میں وہ فوجی ردعمل دینے کے لیے تیار ہے۔a