
واشنگٹن، 16 ستمبر 2026 (کامران راجہ): کانگریشنل بجٹ آفس (سی بی او) کے مطابق ایران کے خلاف چھ ماہ سے جاری امریکی جنگ پر اب تک تقریباً 38 ارب ڈالر خرچ ہو چکے ہیں جبکہ اخراجات میں ہر ماہ تقریباً 3 ارب ڈالر مزید اضافے کا امکان ہے۔ سی بی او کے مطابق جنگ کے باعث 2027 کے ابتدائی تین ماہ کے دوران افراط زر میں 0.5 فیصد اضافہ متوقع ہے۔ بڑھتے ہوئے جنگی اخراجات سے امریکی اسلحے کے ذخائر پر دباؤ بڑھ گیا ہے اور توانائی کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے، جس سے دیگر ممکنہ تنازعات میں امریکا کی فوری کارروائی کی صلاحیت اور پہلے ہی دباؤ کا شکار وفاقی بجٹ کے حوالے سے خدشات پیدا ہوئے ہیں۔ بجٹ آفس کے اندازے کے مطابق زیادہ تر اخراجات ہتھیاروں کے تیزی سے استعمال کے باعث ہوئے جبکہ امریکی اسلحے کے ذخائر کو دوبارہ مکمل کرنے میں پانچ سال تک لگ سکتے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی محکمہ دفاع نے کانگریسی مالیاتی آڈیٹرز کے ساتھ تعاون نہیں کیا۔ یکم اگست تک کے اخراجات پر مشتمل جائزے میں آبنائے ہرمز میں حالیہ تجارتی بحری جہازوں پر حملوں، خطے میں امریکی فوجی تنصیبات پر حملوں اور جنگ کے لیے حاصل کیے گئے قرضوں کی مالی لاگت کو شامل نہیں کیا گیا۔ تنازع کے دوران 18 امریکی فوجی اہلکاروں کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے۔ یہ تحقیقات امریکی ایوان نمائندگان کی بجٹ کمیٹی کے سرفہرست ڈیموکریٹ برینڈن بوئل کی درخواست پر کی گئیں۔