
نیویارک، 23 اگست 2026 (نیوز ڈیسک): ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے امریکا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کا دفاع کرتے ہوئے اسے ایران کے لیے ایسی صورتحال سے نکلنے کا بہترین راستہ قرار دیا ہے جسے انہوں نے ’’نہ جنگ نہ امن‘‘ کی کیفیت قرار دیا، جبکہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بدستور جاری ہے۔ پزشکیان نے اتوار کے روز سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کی جانب سے شائع کی گئی ایک تقریر میں کہا، ’’اس معاہدے میں ایک بھی ایسی شق نہیں جو ہتھیار ڈالنے کے مترادف ہو۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ملک کی پالیسیوں کا تعین سپریم لیڈر کرتے ہیں اور حکومت اسی راستے پر عمل کرے گی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جون میں دستخط کی گئی مفاہمتی یادداشت میں ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے اور اس کے جوہری پروگرام پر معاہدے تک پہنچنے کے لیے 60 روز کی مدت مقرر کی گئی تھی۔ یہ مدت گزشتہ ہفتے ختم ہوگئی، تاہم خصوصاً آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے معاملے پر کسی سمجھوتے کے واضح آثار سامنے نہیں آئے، جبکہ یہ آبنائے عالمی بحری تجارت کے لیے انتہائی اہم راستہ ہے۔ پزشکیان نے اس معاہدے کو ایران کے معاشی امکانات سے بھی جوڑتے ہوئے کہا کہ موجودہ تعطل کے دوران ملک سرمایہ کاری حاصل نہیں کرسکتا۔ امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کو تقریباً چھ ماہ گزرنے کے دوران ایران کی معیشت پابندیوں اور بحری ناکہ بندی کے باعث مشکلات کا شکار ہے۔ دریں اثنا، ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے نئے سخت گیر سربراہ محسن رضائی نے پڑوسی ممالک کو خبردار کیا ہے کہ وہ ایران کی معیشت کو نقصان پہنچانے کی نئی امریکی کوششوں کا ساتھ نہ دیں۔ رضائی نے ہفتے کے روز نشر ہونے والے ایران کے سرکاری ٹی وی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا، ’’اگر ٹرمپ کچھ کرنا چاہتے ہیں تو ہم زلزلہ خیز انداز میں جواب دیں گے۔‘‘ رضائی کو رواں ماہ اعلیٰ عہدیداروں کی ان تقرریوں کے دوران مقرر کیا گیا تھا جنہیں تہران کے سیاسی اور عسکری مؤقف میں سختی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پڑوسی ممالک ایران کے خلاف معاشی جنگ میں شامل ہوئے تو ایران خلیج فارس سے تیل کی ترسیل کے راستوں، بشمول آبنائے ہرمز کے متبادل راستوں، کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
دریں اثنا، ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن نے وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ پاکستانی فیلڈ مارشل عاصم منیر پیر کے روز ایک سرکاری وفد کی قیادت کرتے ہوئے تہران جائیں گے۔ دو علاقائی عہدیداروں نے بتایا کہ یہ دورہ اسلام آباد کی جانب سے امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور دونوں ممالک کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر واپس لانے کی جاری کوششوں کا حصہ ہے۔ عہدیداروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی کیونکہ انہیں اس معاملے پر عوامی طور پر گفتگو کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ ایران کی عدلیہ نے احتجاج سے منسلک تازہ ترین پھانسی کی بھی اطلاع دی اور مرنے والے شخص کی شناخت مجید عدینہ کے نام سے کی۔ میزان نیوز ایجنسی کے مطابق اسے 9 جنوری کو تہران کے مغرب میں کرج کے قریب محمدشہر سے گرفتار کیا گیا تھا۔ حکام نے کہا کہ اس کے قبضے سے ایک پستول، 30 گولیاں، دو اسٹن گنز، آنسو گیس کے دو کین اور بیٹری سے چلنے والی ایک چین سا برآمد ہوئی۔ عدلیہ کے مطابق فرانزک تحقیقات سے معلوم ہوا کہ پستول 8 اور 9 جنوری کو چلایا گیا تھا۔ میزان نے رپورٹ کیا کہ عدینہ ایران کی حکومت کے مخالف گروہوں کی اپیلوں کے بعد شروع ہونے والے ہنگاموں میں شامل ہوا تھا اور اس پر بیرون ملک موجود گروہوں سے تربیت حاصل کرنے کا الزام بھی عائد کیا گیا تھا۔ کرج کی ایک انقلابی عدالت نے بعد میں عدینہ کو جاسوسی اور دشمن ریاستوں کے ساتھ تعاون پر سخت سزاؤں سے متعلق ایرانی قوانین کے تحت مجرم قرار دیا۔ میزان کے مطابق فیصلے میں اس پر اسرائیل، امریکا اور ایران کے نزدیک دشمن سمجھے جانے والے دیگر گروہوں کی جانب سے کارروائیاں کرنے کا الزام عائد کیا گیا۔
ادھر مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی پولیس نے اسرائیلی بستی اَویگائل سے تعلق رکھنے والے 16 سالہ لڑکے کو 61 سالہ فلسطینی شخص پر تشدد کے الزام میں گرفتار کرلیا۔ سعید محمد ابراہیم رباہ کو جنوبی مغربی کنارے کے علاقے خربت الرکیز میں اپنے گھر کے باہر پائپ سے مارا گیا، جس کے نتیجے میں اس کے جسم پر چوٹیں اور درد ہوا۔ رباہ ایک سال قبل ایک آبادکار کی فائرنگ سے اپنی ایک ٹانگ سے محروم ہوچکے ہیں۔ رباہ نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ ہفتے کی سہ پہر دو آبادکار ٹریکٹر کے ساتھ ان کے گھر پہنچے۔ ان میں سے ایک نے خاندان کی جانب سے جائیداد کے داخلی راستے پر رکھے گئے پتھر ہٹانا شروع کیے اور اندر داخل ہونے کی کوشش کی۔ رباہ کے مطابق جب وہ یہ معلوم کرنے کے لیے ان کے قریب گئے کہ وہ کیا کر رہے ہیں تو ایک آبادکار نے ان کی کمر پر پائپ سے حملہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس تشدد کا مقصد ان جیسے خاندانوں کو علاقہ چھوڑنے پر مجبور کرنا ہے۔ رباہ نے اتوار کو پولیس میں رپورٹ درج کرانے کے بعد کہا، ’’چاہے کچھ بھی ہوجائے، ہم یہیں رہیں گے۔ یہ ہماری زمین ہے اور ہمارا وطن ہے، اور ہمیں اس کا تحفظ کرنا ہوگا۔‘‘ پولیس نے یروشلم سے تعلق رکھنے والے ایک 17 سالہ نوجوان سے بھی پوچھ گچھ کی جس پر الزام ہے کہ وہ قریب کھڑا ہوکر موبائل فون سے حملے کی ویڈیو بنا رہا تھا۔ رباہ نے بتایا کہ اپریل 2025 میں انہوں نے اپنی زمین پر آبادکاروں کا سامنا کیا تھا جبکہ ان کا بیٹا واقعے کی ویڈیو بنا رہا تھا، اسی دوران ایک آبادکار نے ان کی ٹانگ پر گولی ماری، جسے بعد میں اسپتال میں کاٹنا پڑا۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج نے اتوار کے روز کہا کہ وہ مشرقی مغربی کنارے کے علاقے العوجا میں چاقو حملے کے مشتبہ شخص کی تلاش کر رہی ہے، جس میں 24 سالہ اسرائیلی شخص زخمی ہوا۔ اسرائیلی ہنگامی طبی خدمات کے مطابق زخمی شخص کو درمیانی نوعیت کی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا۔ غزہ میں اسپتال حکام کے مطابق اتوار کے روز وسطی غزہ میں ایک گھر پر اسرائیلی فضائی حملے کے نتیجے میں چار سالہ محمد طٰہٰ جاں بحق ہوگیا۔ الاقصیٰ شہداء اسپتال کے مطابق، جہاں زخمیوں اور جاں بحق ہونے والے افراد کو منتقل کیا گیا، زوایدہ قصبے میں ہونے والے حملے میں کم از کم پانچ دیگر افراد بھی زخمی ہوئے، جن میں ایک بچہ بھی شامل ہے۔ مقامی رہائشیوں کے مطابق حملے سے چند منٹ قبل انہیں اسرائیلی فوج کی جانب سے اس علاقے کو خالی کرنے کی وارننگ موصول ہوئی تھی جہاں گھر واقع تھا۔ اسرائیلی فوج نے فوری طور پر تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔ اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے اتوار کو جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا کہ انہوں نے فوج کو ہدایت کی ہے کہ غزہ سے سرحد کے قریب اسرائیلی آبادیوں کی جانب غبارے، پتنگیں یا ڈرون چھوڑنے کی کارروائیوں کو روکنے کے لیے ’’فوری اور طاقتور‘‘ اقدامات کیے جائیں۔ کاٹز نے کہا، ’’ہم ہر لانچ کو ہر لحاظ سے جنگ کی کارروائی تصور کرتے ہیں۔‘‘ 7 اکتوبر 2023 کو حماس کی قیادت میں جنگجوؤں کے اسرائیل پر حملے سے قبل غزہ سے جلتی ہوئی پتنگیں اور غبارے جنوبی اسرائیل کی جانب بھیجے جاتے رہے تھے، جن سے آگ لگنے اور دیگر نقصانات کے واقعات پیش آئے تھے۔ 7 اکتوبر کے حملے میں تقریباً 1,200 افراد ہلاک اور 251 افراد کو یرغمال بنایا گیا تھا۔اگرچہ اکتوبر میں اسرائیل اور حماس کی جنگ میں ایک نازک جنگ بندی کے نافذ ہونے کے بعد شدید ترین لڑائی میں کمی آئی ہے، تاہم غزہ کے محکمہ صحت کے حکام کے مطابق اسرائیلی فورسز نے بار بار فضائی حملے کیے ہیں جن میں 1,280 سے زیادہ فلسطینی جاں بحق ہوچکے ہیں۔ غزہ کی وزارت صحت کے مطابق مجموعی جنگی ہلاکتوں کی تعداد 73,400 فلسطینیوں سے تجاوز کرچکی ہے۔ یہ وزارت، جو حماس کی قیادت والی حکومت کا حصہ ہے، ہلاکتوں کا تفصیلی ریکارڈ رکھتی ہے جسے اقوام متحدہ کے ادارے اور آزاد ماہرین عمومی طور پر قابل اعتماد سمجھتے ہیں، تاہم وزارت شہریوں اور جنگجوؤں کے درمیان الگ الگ اعداد و شمار فراہم نہیں کرتی۔ جنگجوؤں نے بھی اسرائیلی فوجیوں پر فائرنگ کے حملے کیے ہیں، جبکہ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس کے حملے ان کارروائیوں اور دیگر جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے جواب میں کیے جاتے ہیں۔ جنگ بندی کے بعد سے پانچ اسرائیلی فوجی ہلاک ہوچکے ہیں۔