اسلام آباد، 8 ستمبر 2026 (نوشین): اڈیالہ جیل کے تین قیدیوں اویس الطاف، الیاس خان اور محمد اسماعیل نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو وفاقی آئینی عدالت میں چیلنج کرتے ہوئے بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کو حاصل طبی سہولیات اور مواصلاتی حقوق جیسی سہولیات فراہم کرنے کی درخواست کی ہے۔ درخواست گزاروں نے استدعا کی ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر انہیں بھی عمران خان کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات اور علاج کی اجازت دی جائے۔ قیدیوں نے مؤقف اختیار کیا کہ آئین کے آرٹیکل 25 کے تحت تمام شہریوں کے ساتھ مساوی سلوک لازم ہے اور عمران خان سے متعلق سپریم کورٹ کا حکم ان پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ درخواست گزاروں نے سپریم کورٹ کے 18 اگست کے اس حکم کا حوالہ بھی دیا جس میں عمران خان کو طبی معائنے اور علاج کے لیے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کی ہدایت کی گئی تھی اور اپنے لیے بھی اسی اسپتال میں علاج کی اجازت مانگی ہے۔ قیدیوں نے بیرون ملک مقیم اپنے رشتہ داروں سے واٹس ایپ کے ذریعے رابطے کی اجازت دینے کی بھی استدعا کی، تاہم یہ سہولت جیل قوانین اور سکیورٹی تقاضوں سے مشروط ہوگی۔ درخواستیں اسلام آباد ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے بعد دائر کی گئی ہیں جس کے تحت میڈیکل بورڈ کی سفارش پر نجی اسپتال میں علاج کی اجازت دی جا سکتی ہے جبکہ بیرون ملک رشتہ داروں سے رابطے کی سہولت جیل قوانین اور سکیورٹی تقاضوں کے تابع قرار دی گئی تھی۔ وفاقی آئینی عدالت نے تینوں اپیلوں کو علیحدہ نمبرز الاٹ کرتے ہوئے پہلی اپیل 2050/2026، دوسری 2051/2026 اور تیسری 2052/2026 کے طور پر نمبر درج کی ہے۔
