Saturday, August 15

انڈونیشیا میں 7.7 شدت کے زلزلے کے بعد سونامی کی وارننگ جاری

جکارتہ، 15 اگست 2026 (غفران): انڈونیشیا میں ہفتے کی صبح 7.7 شدت کے طاقتور زلزلے کے بعد مقامی سطح پر سونامی کی وارننگ جاری کردی گئی۔ حکام نے شہریوں کو ساحلوں اور دریاؤں کے کناروں سے دور رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے متاثرہ ساحلی علاقوں کے رہائشیوں کو بلند مقامات پر منتقل ہونے کا کہا ہے۔ امریکی جیولوجیکل سروے (یو ایس جی ایس) کے مطابق ابتدائی زلزلے کے بعد 5.9، 5.6 اور 6.1 شدت کے تین آفٹر شاکس بھی آئے۔ انڈونیشیا کی محکمہ موسمیات، موسمیاتی اور جیو فزکس ایجنسی کے مطابق کم گہرائی میں آنے والا زیرِ سمندر زلزلہ فلورس جزیرے کے قریب آیا۔ آسٹریلوی حکام نے کہا ہے کہ فی الحال تیمور سی کے پار آسٹریلیا کے لیے سونامی کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔ یو ایس جی ایس کے ابتدائی اندازوں کے مطابق زلزلے سے جانی نقصان اور املاک کو نقصان پہنچنے کا امکان ہے، تاہم انڈونیشی حکومت کی جانب سے فوری طور پر کوئی حتمی بیان جاری نہیں کیا گیا۔ یو ایس جی ایس کے پیجر سسٹم کے مطابق تقریباً 5 لاکھ افراد نے انتہائی شدید یا خطرناک نوعیت کے جھٹکے محسوس کیے، جن سے مضبوط عمارتوں کو معمولی سے درمیانے درجے جبکہ کمزور تعمیرات کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ انڈونیشیا ماضی میں بھی کئی تباہ کن زلزلوں کا سامنا کرچکا ہے اور یہ ملک بحرالکاہل کے ’’رِنگ آف فائر‘‘ پر واقع ہے، جو دنیا کے سب سے زیادہ زلزلہ خیز علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔ 2004 میں بحر ہند میں آنے والی تباہ کن سونامی انڈونیشیا کے جزیرے سماٹرا کے قریب 9.1 شدت کے زلزلے کے باعث پیدا ہوئی تھی، جس کے نتیجے میں بحر ہند کے ساحلی ممالک میں 2 لاکھ 20 ہزار سے زائد افراد جاں بحق ہوئے، جن میں نصف سے زیادہ ہلاکتیں انڈونیشیا میں ہوئیں۔ اگست 2018 میں لومبوک جزیرے میں 6.9 شدت کے زلزلے سے سیکڑوں افراد جاں بحق ہوئے، جبکہ اسی سال ستمبر میں 7.5 شدت کے زلزلے اور سونامی نے سولاویسی جزیرے کو متاثر کیا، جس کے نتیجے میں مزید سیکڑوں افراد جان سے گئے۔ نومبر 2022 میں مغربی جاوا کے سیانجور علاقے میں 6.5 شدت کے زلزلے نے بھی بڑے پیمانے پر تباہی مچائی اور سیکڑوں افراد جاں بحق ہوئے۔