
اسلام آباد، 3 نومبر 2026 (نوشین): امریکی سپریم کورٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی ہنگامی درخواست مسترد کرتے ہوئے کیلیفورنیا کو 20 ہزار سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز کے ڈاک کے ذریعے ڈالے گئے ووٹوں کی گنتی جاری رکھنے کی اجازت دے دی ہے۔ وفاقی حکام نے ان ووٹرز کے امریکی شہری نہ ہونے کا شبہ ظاہر کیا تھا۔ امریکی وسط مدتی انتخابات سے چند گھنٹے قبل محکمہ انصاف کی جانب سے دائر درخواست کو مسترد کرنا ٹرمپ انتظامیہ کے لیے ایک اور دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔ سپریم کورٹ نے اپنے مختصر فیصلے میں درخواست مسترد کرنے کی کوئی وجہ بیان نہیں کی جبکہ کسی بھی جج نے فیصلے سے اختلاف نہیں کیا۔ ٹرمپ انتظامیہ نے مطالبہ کیا تھا کہ مشتبہ ووٹوں کو دیگر ووٹوں سے الگ رکھا جائے اور ووٹرز کی شہریت کی تصدیق تک ان کی گنتی نہ کی جائے۔ تاہم کیلیفورنیا حکام کا مؤقف تھا کہ اس اقدام سے ہزاروں اہل شہریوں کو ووٹ کے حق سے محروم کیا جا سکتا ہے اور وفاقی حکومت کی فراہم کردہ معلومات میں غلطیوں کا امکان ہے۔ کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوزم نے سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس سے جمہوریت کا تحفظ اور آزادانہ و منصفانہ انتخابات یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔ اس سے قبل ایک وفاقی ضلعی عدالت اور امریکی اپیل کورٹ بھی ٹرمپ انتظامیہ کی ایسی ہی درخواستیں مسترد کر چکی ہیں۔ امریکی محکمہ انصاف نے 15 اکتوبر کو مقدمہ دائر کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ کیلیفورنیا وفاقی انتخابی قوانین پر عمل درآمد میں رکاوٹ ڈال رہا ہے۔ دوسری جانب ریاستی حکام نے کہا کہ غیر ملکی شہریوں کو ووٹ ڈالنے سے روکنے کے لیے مؤثر حفاظتی اقدامات موجود ہیں اور وفاقی حکومت کے الزامات غیر مصدقہ معلومات پر مبنی ہیں۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ری پبلکنز وسط مدتی انتخابات میں کانگریس پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ ڈیموکریٹس ایوان نمائندگان میں مزید نشستیں حاصل کرنے کے خواہاں ہیں۔ امریکا کی سب سے زیادہ آبادی والی ریاست کیلیفورنیا ایوان نمائندگان کی 52 نشستیں رکھتی ہے، جس کے باعث وہاں کے انتخابی نتائج کانگریس میں سیاسی طاقت کے توازن کے لیے خاص اہمیت رکھتے ہیں۔