گرین بیلٹ، 03 ستمبر 2026 (کامران راجہ): امریکی وفاقی جج نے ٹرمپ انتظامیہ کو پیدائشی شہریت محدود کرنے کے لیے جاری کیے گئے نئے صدارتی حکم پر عمل درآمد سے روک دیا ہے۔ امریکی ڈسٹرکٹ جج ڈیبورا بورڈمین نے تارکین وطن کے حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنوں کی جانب سے حکم کو چیلنج کیے جانے کے بعد ابتدائی حکم امتناع جاری کیا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ حکم 6 اگست کو سپریم کورٹ کی جانب سے پیدائشی شہریت محدود کرنے کی ان کی سابقہ کوشش مسترد کیے جانے کے بعد جاری کیا تھا۔ نئے حکم کا مقصد نام نہاد ’’برتھ ٹورازم‘‘ کو روکنا تھا، جبکہ مخصوص حالات میں امریکا میں پیدا ہونے والے بعض بچوں کو شہریت دینے سے انکار کی تجویز بھی شامل تھی۔ جج ڈیبورا بورڈمین نے قرار دیا کہ متعلقہ افراد پر لاگو ہونے کی صورت میں یہ نیا حکم تقریباً یقینی طور پر آئین کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ پہلے ہی فیصلہ دے چکی ہے کہ مقدمے میں شامل بچوں کو پیدائش کے وقت امریکی شہریت حاصل ہے۔عدالت کے حکم کے تحت محکمہ خارجہ، محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی اور سوشل سیکیورٹی انتظامیہ سمیت وفاقی اداروں کو ایسے بچوں کی شہریت سے انکار یا اسے تسلیم نہ کرنے کے لیے اقدامات سے روک دیا گیا ہے۔
