
واشنگٹن، 9 اکتوبر 2026 (نوشین): امریکی فوج ایران کے خلاف تین روزہ شدید حملوں کی مہم کی منصوبہ بندی کر رہی ہے، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نئے حملے شروع کرنے کے حوالے سے تاحال حتمی فیصلہ نہیں کیا۔ نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق مجوزہ فوجی کارروائی میں ایران کے میزائلوں اور ڈرونز کے ذخائر کو نشانہ بنایا جائے گا، جبکہ ایرانی توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) کے کمانڈ سینٹرز بھی ممکنہ اہداف میں شامل ہو سکتے ہیں۔ اخبار نے رپورٹ کیا کہ ٹرمپ نے گزشتہ چند ماہ کے دوران ایران اور یمن کے حوثی گروپ کے خلاف فوجی حملوں کی پانچ تجاویز مسترد کی ہیں، جس سے خطے کے حوالے سے امریکی انتظامیہ کی حکمت عملی پر غیر یقینی صورت حال ظاہر ہوتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق جنگ کے خاتمے کے بعد ایران نے اپنی میزائل اور ڈرون صلاحیتوں کو دوبارہ بحال اور مضبوط کیا ہے، جس کے باعث امریکا کے لیے خطے میں اپنے فوجی اڈوں کو ممکنہ ایرانی حملوں سے محفوظ رکھنا مزید مشکل ہو گیا ہے۔ رپورٹ میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ ایران نے ستمبر سے اب تک 13 بحری جہازوں کو نشانہ بنایا، تاہم واشنگٹن نے ان واقعات کے جواب میں کوئی کارروائی نہیں کی۔ ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کی منصوبہ بندی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں علاقائی سلامتی، بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی اور تنازع کے مزید پھیلاؤ کے خدشات برقرار ہیں۔ تاہم رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے مجوزہ حملوں کے بارے میں تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا۔