واشنگٹن، 5 اگست 2026 (غفران): امریکی حکام نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ آبنائے ہرمز کو دوبارہ مکمل تجارتی آمدورفت کے لیے کھولنے سے متعلق معاہدہ “آج یا کل” طے پانے کا امکان ہے، جبکہ دوسری جانب خلیجی اور بحیرہ احمر میں تازہ حملوں نے خطے کی سیکیورٹی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ آئندہ چند گھنٹوں میں ایران کے ساتھ پیش رفت کا امکان موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ معاہدہ طے پانے کی صورت میں عالمی منڈیوں میں تیل کی ترسیل بہتر ہوگی، جس کے باعث عالمی تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر سفارتی حل کی امید ظاہر کرتے ہوئے ایران کو خبردار کیا کہ یہ اس کے لیے “آخری موقع” ہے، تاہم ساتھ ہی سخت کارروائی کی دھمکی بھی دہرائی۔
اگرچہ قطر کی ثالثی میں سفارتی کوششیں جاری ہیں، تاہم قطری حکام نے واضح کیا ہے کہ فی الحال ایران اور امریکا کے درمیان کسی براہِ راست مذاکرات کا منصوبہ نہیں ہے۔ قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے امریکی صدر سے ٹیلیفونک رابطہ کیا، جس میں خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ادھر ایران کی وزارت خارجہ نے امریکا کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کی خبروں کی تردید کی ہے، جبکہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے تصدیق کی کہ عمان کی ثالثی میں آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بڑھانے کے حوالے سے سفارتی رابطے جاری ہیں۔ آبنائے ہرمز، جہاں سے دنیا کی بڑی مقدار میں تیل اور قدرتی گیس کی ترسیل ہوتی ہے، حالیہ مہینوں میں علاقائی کشیدگی کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ ایران اس اہم بحری راستے پر زیادہ کنٹرول اور تجارتی جہازوں سے فیس وصول کرنے کا خواہاں ہے، جس کی امریکا سخت مخالفت کر رہا ہے۔
تازہ کشیدگی کے دوران برطانیہ کی بحری سیکیورٹی ایجنسی نے بتایا کہ آبنائے ہرمز میں عمان کے ساحل کے قریب ایک تجارتی جہاز نامعلوم میزائل نما شے کی زد میں آیا، جس کے نتیجے میں عملے کا ایک رکن لاپتا ہو گیا۔ دریں اثنا بحیرہ احمر میں بھی ایک بھارتی تجارتی جہاز حملے کے بعد ڈوب گیا، تاہم اس کے تمام عملے کو بحفاظت بچا لیا گیا۔ ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کی جانب سے بحیرہ احمر میں جاری کارروائیوں نے عالمی بحری تجارت کے لیے مزید خدشات پیدا کر دیے ہیں۔ ادھر ممکنہ معاہدے کی خبروں کے بعد عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت میں چھ فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی اور یہ 79 ڈالر فی بیرل سے نیچے آ گئی، جس سے سرمایہ کاروں نے آبنائے ہرمز میں تجارتی سرگرمیوں کی بحالی کی امید ظاہر کی ہے۔ امریکا نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اس کی سفارتی ترجیحات میں آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھلوانا اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق پیش رفت شامل ہے، جبکہ خطے میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی برادری کی نظریں آئندہ چند دنوں میں ہونے والی ممکنہ سفارتی پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
