
واشنگٹن، 22 اگست 2026 (نوشین): امریکا اور کینیڈا کے درمیان تجارتی معاہدہ طے نہ پا سکا، جس کے بعد واشنگٹن نے کینیڈا سے درآمد ہونے والی بعض اشیا پر 50 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا ہے، جس سے دونوں دیرینہ اتحادیوں کے درمیان تجارتی کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کے ایک سینئر عہدیدار کے مطابق تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی کینیڈین اشیا پر سیکشن 338 کے تحت ٹیرف ہفتہ کی نصف شب کے فوراً بعد نافذ العمل ہو جائیں گے۔ کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی نے امریکا کے ساتھ تجارتی مذاکرات معطل کرنے اور کینیڈین مذاکرات کاروں کو واپس اوٹاوا بلانے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ کینیڈا نئے امریکی ٹیرف کا ڈالر کے بدلے ڈالر کی بنیاد پر جواب دے گا۔ یہ فیصلہ واشنگٹن میں کینیڈا کے امریکی امور کے وزیر تجارت ڈومینک لی بلانک اور امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر کے درمیان تین روز تک جاری رہنے والے مذاکرات کے بعد سامنے آیا۔ مارک کارنی نے کہا کہ کینیڈا کے مذاکرات کاروں نے کینیڈین عوام کے مفادات کے تحفظ کے لیے نیک نیتی سے کام کیا، تاہم امریکی تجاویز میں آخری وقت میں کی جانے والی تبدیلیاں غیر منصفانہ اور معاشی طور پر نقصان دہ تھیں۔ اگرچہ نئے اقدامات کینیڈا کی برآمدات کے نسبتاً محدود حصے کو متاثر کریں گے، تاہم یہ پہلے سے کینیڈین اسٹیل، لکڑی اور گاڑیوں پر عائد امریکی ٹیرف میں مزید اضافہ کریں گے۔ نئے ٹیرف سے کینیڈا کی کمزور معاشی بحالی پر مزید دباؤ پڑنے اور دونوں ممالک کے درمیان مستقبل کے آزاد تجارتی معاہدے کے حوالے سے وسیع تر مذاکرات پیچیدہ ہونے کا خدشہ ہے۔ نئے اقدامات کا اطلاق اس بات سے قطع نظر ہوگا کہ کینیڈین مصنوعات امریکا، میکسیکو اور کینیڈا کے تجارتی معاہدے (USMCA) کے تحت ترجیحی تجارتی سہولت کی اہل ہیں یا نہیں۔ اس معاہدے نے اس سے قبل کینیڈا کی بیشتر صنعتوں کو امریکی ٹیرف سے تحفظ فراہم کیا تھا۔ حالیہ پیش رفت دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافے کی نشاندہی کرتی ہے اور آنے والے مہینوں میں ان کے اقتصادی تعلقات پر اثر انداز ہونے کا امکان ہے۔