اقوامِ متحدہ، 31 جولائی 2026(کامران راجہ): پاکستان نے اقوامِ متحدہ میں منعقدہ 2026 عالمی مصنوعی ذہانت کانفرنس اور عالمی مصنوعی ذہانت کی حکمرانی سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس پر دی گئی بریفنگ کے دوران جامع، انسان دوست اور ترقی پر مبنی مصنوعی ذہانت کے فروغ کے لیے اپنے پختہ عزم کا اعادہ کیا۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے پاکستان کا مؤقف پیش کرتے ہوئے کانفرنس کے کامیاب انعقاد پر چین کو مبارک باد دی اور عالمی مصنوعی ذہانت تعاون تنظیم کے قیام کا خیرمقدم کیا۔
انہوں نے اجلاس کو بتایا کہ نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کانفرنس میں پاکستان کی نمائندگی کی، جبکہ وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے رواں سال مئی میں اپنے دورۂ چین کے دوران اس اقدام کی مکمل حمایت کا اظہار کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو عالمی مصنوعی ذہانت تعاون تنظیم کے بانی اراکین میں شامل ہونے پر فخر ہے۔
سفیر عاصم افتخار احمد نے اس بات پر زور دیا کہ ترقی پذیر ممالک کو عالمی مصنوعی ذہانت کی معیشت میں مؤثر اور بامعنی شرکت کے لیے معلوماتی ذخائر، کمپیوٹنگ صلاحیت، مصنوعی ذہانت کے نمونے، ضروری آلات اور تکنیکی مہارت تک منصفانہ رسائی حاصل ہونی چاہیے۔ انہوں نے کانفرنس کے نتائج کو عالمی تعاون کے فروغ کے لیے ایک عملی، مؤثر اور مستقبل ساز لائحۂ عمل قرار دیا۔
انہوں نے مستقبل کے تعاون کے لیے تین اہم ترجیحات پر زور دیا: ترقی پذیر ممالک میں مصنوعی ذہانت کے بنیادی ڈھانچے اور استعدادِ کار کو مضبوط بنانا۔ صحت، تعلیم، زراعت، موسمیاتی موافقت اور پائیدار ترقی کے دیگر شعبوں میں مصنوعی ذہانت کے مؤثر استعمال کو فروغ دینا۔ بین الاقوامی معیارات، تحفظ اور ضابطہ سازی کے شعبوں میں تعاون کے ذریعے ذمہ دارانہ عالمی مصنوعی ذہانت کی حکمرانی کو مضبوط بنانا۔
مستقل مندوب نے ہمہ گیر کثیرالجہتی تعاون کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان چین اور دیگر شراکت دار ممالک کے ساتھ مل کر اس امر کو یقینی بنانے کے لیے کام جاری رکھے گا کہ مصنوعی ذہانت مشترکہ خوشحالی، مساوی ترقی اور سب کے لیے پائیدار مستقبل کا ذریعہ بنے۔
