
اسلام آباد، 28 اکتوبر 2026(نوشین): آسکر کے لیے نامزد ایرانی فلم ساز جعفر پناہی کو ایران کی اسلامی انقلابی عدالت نے ان کی غیر موجودگی میں پانچ سال اور ایک ماہ قید کی سزا سنا دی ہے۔ جعفر پناہی اس وقت ایران سے باہر تھے اور اپنی فلم ’’اِٹ واز جسٹ این ایکسیڈنٹ‘‘ کی تشہیر میں مصروف تھے، جس نے کانز فلم فیسٹیول میں پام ڈی اور ایوارڈ جیتا اور فرانس کی نمائندگی کرتے ہوئے آسکر کے بہترین بین الاقوامی فلم کے زمرے میں نامزد ہوئی۔ ان کے وکیل مصطفیٰ نیلی کے مطابق گزشتہ ہفتے جعفر پناہی کے بینک اکاؤنٹس منجمد کر دیے گئے تھے۔ وکیل اور فلم ساز کو وزارتِ ثقافت و میڈیا کے پراسیکیوٹر آفس کے شعبہ نفاذِ احکامات کے دورے کے دوران معلوم ہوا کہ ان کے خلاف ایک نیا فیصلہ جاری کیا گیا ہے، جو پیشگی قانونی اطلاع دیے بغیر ان کی غیر موجودگی میں سنایا گیا۔ جعفر پناہی ماضی میں بھی ایران میں متعدد مرتبہ گرفتار اور قید کیے جا چکے ہیں۔ 2020 میں انہیں چھ سال قید کی سزا سنائی گئی تھی، جبکہ فلم سازی، اسکرین پلے لکھنے اور بیرونِ ملک سفر کرنے پر 20 سال کی پابندی بھی عائد کی گئی تھی۔ جولائی 2022 میں انہیں اس سزا پر عمل درآمد کے لیے گرفتار کرکے ایون جیل منتقل کیا گیا، تاہم سات ماہ قید میں گزارنے کے بعد فروری 2023 میں انہیں رہا کر دیا گیا۔ دسمبر 2025 میں بھی اس فلم ساز کو نظام کے خلاف پروپیگنڈا سرگرمیوں کے الزام میں ایک سال قید اور دیگر تعزیری اقدامات کی سزا سنائی گئی تھی، جسے اپیل کے بعد ایرانی انقلابی عدالت نے برقرار رکھا۔ ایرانی حکام کے ساتھ مسلسل تنازعات کے باوجود جعفر پناہی فلم سازی کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور ان کی فلموں کو عالمی سطح پر پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔ ان کی فلم ’’دی وائٹ بیلون‘‘ نے 1995 میں کانز فلم فیسٹیول کا کیمرا ڈی اور ایوارڈ جیتا، ’’دی سرکل‘‘ نے 2000 میں وینس فلم فیسٹیول میں گولڈن لائن ایوارڈ حاصل کیا، جبکہ ’’ٹیکسی‘‘ کو 2015 میں برلن انٹرنیشنل فلم فیسٹیول کا گولڈن بیئر ایوارڈ دیا گیا۔