پشاور، 2 ستمبر 2026 (کامران راجہ): انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید کی زیرِ صدارت آج سنٹرل پولیس آفس پشاور میں 83ویں پولیس پالیسی بورڈ کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں صوبے میں پولیسنگ کے نظام کو مزید مؤثر، جدید اور نتیجہ خیز بنانے سے متعلق اہم امور کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں پولیس کی آپریشنل استعدادِ کار میں اضافے، جدید ٹیکنالوجی اور آلات کی فراہمی، بھاری ہتھیاروں کی مؤثر تعیناتی، پولیس شہداء کے بچوں کی فلاح و بہبود اور فرانزک سروسز کے فروغ سمیت مختلف امور پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں ایڈیشنل آئی جیز، ڈی آئی جیز، ڈی جی پی سی او، کمانڈنٹس ایف آر پی اور ایس ایس یو، ڈائریکٹر آئی ٹی اور دیگر متعلقہ پولیس افسران نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران پولیس کی آپریشنل ضروریات اور جدید ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال سے متعلق تجاویز پر تفصیلی غور کیا گیا۔ حساس اضلاع میں مختلف نوعیت کے سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اے پی سیز اور ڈرونز کی مساوی فراہمی کا جائزہ لیا گیا۔ پولیس پالیسی بورڈ نے بھاری ہتھیاروں کی الاٹمنٹ اور ان کی ازسرِنو منتقلی کے معاملے پر بھی غور کیا۔ اجلاس میں اس امر پر زور دیا گیا کہ جدید سکیورٹی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے بھاری ہتھیاروں کی فراہمی کو زمینی حقائق، علاقوں کی حساسیت اور آپریشنل ضروریات سے ہم آہنگ کیا جائے۔ پولیس شہداء کے بچوں کو اے ایس آئی (بی ایس-11) کے طور پر سپرنمریری/عارضی پوسٹوں پر بھرتی کرنے سے متعلق مسائل بھی زیرِ بحث آئے۔ بورڈ نے متعلقہ مسائل کو قواعد و ضوابط کے مطابق حل کرنے کے لیے اقدامات کا جائزہ لیا۔ اجلاس میں خیبرپختونخوا فارنزک سائنس لیبارٹری میں گاڑیوں کی تصدیق اور فرانزک معائنہ کے لیے جدید سہولیات کے اجراء کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اس اقدام کو تفتیشی نظام کو مزید مضبوط بنانے، گاڑیوں سے متعلق جرائم کی مؤثر تحقیقات اور جدید سائنسی شواہد کی بنیاد پر تفتیش کے فروغ کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا گیا۔
2025 میں فاسٹ ٹریک پروموشن کے ذریعے تعینات کیے گئے ڈی ایس پیز کی ایڈوانس کورس کے لیے نامزدگی سے متعلق معاملہ بھی اجلاس میں زیرِ غور آیا۔ شرکاء نے پولیس افسران کی پیشہ ورانہ تربیت، آپریشنل استعدادِ کار میں اضافے اور ترقی کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے مختلف اقدامات پر غور کیا۔پولیس پالیسی بورڈ نے موجودہ پولیسنگ نظام اور مجوزہ نئے طریقہ کار کا تقابلی جائزہ بھی لیا، جس کا مقصد غیر ضروری پیچیدگیوں کو ختم کرکے پولیسنگ کے نظام کو مزید مؤثر، تیز رفتار، جوابدہ اور عوام دوست بنانا ہے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے آئی جی خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید نے کہا کہ موجودہ سکیورٹی صورتحال میں پولیس کو روایتی طریقہ کار کے ساتھ ساتھ جدید ٹیکنالوجی، جدید آلات اور مؤثر وسائل سے لیس کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس پالیسی بورڈ کے فیصلوں کا بنیادی مقصد پولیس فورس کی پیشہ ورانہ استعدادِ کار میں اضافہ، وسائل کا مؤثر استعمال اور عوام کو بہتر پولیس خدمات کی فراہمی ہے۔آئی جی خیبرپختونخوا نے پولیس شہداء کے خاندانوں کی فلاح و بہبود اور ان کے جائز مسائل کے حل کو پولیس ویلفیئر پالیسی کا اہم حصہ قرار دیتے ہوئے متعلقہ حکام کو قواعد و ضوابط کے مطابق مؤثر اقدامات یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ ذوالفقار حمید نے کہا کہ شہداء کے خاندان پولیس فورس کا قیمتی اثاثہ ہیں اور ان کے مسائل کے حل، فلاح و بہبود اور جائز حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ اجلاس میں زیرِ غور معاملات پر واضح سفارشات، قابلِ عمل تجاویز اور مقررہ ٹائم لائن کے مطابق عملی پیش رفت یقینی بنائی جائے۔ اجلاس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ خیبرپختونخوا پولیس کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ایک مضبوط، پیشہ ور، ٹیکنالوجی سے لیس اور عوام دوست فورس بنانے کے لیے اصلاحات کے عمل کو مزید تیز کیا جائے گا۔
