
کراچی، 5 ستمبر 2026 (غفران): پولیس نے گل پلازہ آتشزدگی کیس میں چالان کراچی کی عدالت میں جمع کرا دیا ہے، جس میں جنوری میں 70 سے زائد افراد کی ہلاکت کا بنیادی ذمہ دار شاپنگ سینٹر کی انتظامیہ کو قرار دیا گیا ہے۔ تین منزلہ گل پلازہ میں تقریباً 1,200 کاروباری مراکز قائم تھے، جو 17 جنوری کو اچانک خوفناک آگ کی لپیٹ میں آگیا۔ اس واقعے نے کراچی میں فائر سیفٹی کے انتظامات اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی صلاحیت پر سنگین سوالات اٹھا دیے تھے۔ ہفتے کے روز کراچی کی عدالت میں جمع کرائے گئے پولیس چالان کے مطابق تفتیش کاروں کو کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (KMC)، فائر بریگیڈ یا سول ڈیفنس کی جانب سے کسی غفلت کے شواہد نہیں ملے۔ پولیس نے مقدمے میں 87 گواہوں کو شامل کیا ہے جبکہ شاپنگ سینٹر میں فائر سیفٹی کے انتظامات میں سنگین خامیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ تفتیش میں گل پلازہ انتظامیہ کی مبینہ غفلت کے ساتھ ساتھ عمارت اور انفرادی دکانوں کے اندر حفاظتی اقدامات کی ناکافی صورتحال کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔ چالان میں تفتیش کے دوران حاصل کی گئی سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر شواہد بھی شامل کیے گئے ہیں۔ فرانزک معائنے کے دوران جانچے گئے سامان میں کسی قسم کا دھماکہ خیز مواد نہیں ملا اور نہ ہی آتش گیر مائع کے آثار پائے گئے۔ تاہم بعض مواد میں جلنے سے متعلق ذرات کے شواہد ملے ہیں۔
پولیس کے نتائج عدالتی کمیشن کی سفارشات سے بھی مطابقت رکھتے ہیں، جس نے گل پلازہ انتظامیہ کو فائر سیفٹی کی معلوم خامیوں کو دور کرنے میں ناکامی کا ذمہ دار قرار دیا تھا۔ سندھ محکمہ داخلہ کی جانب سے گزشتہ ماہ جاری کی گئی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ گل پلازہ کی انتظامیہ حفاظتی خامیوں سے آگاہ تھی، تاہم ان کے تدارک کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کیے گئے۔ کمیشن نے فائر سیفٹی کے تین اہم شعبوں، یعنی آگ سے بچاؤ، آگ کی بروقت نشاندہی اور آگ بجھانے کے انتظامات میں خامیوں کی نشاندہی کی اور قرار دیا کہ عمارت میں مربوط فائر سیفٹی نظام موجود نہیں تھا۔ 2024 اور 2025 کی سول ڈیفنس کی معائنہ رپورٹس میں بھی ہائیڈرنٹس، ہوز ریلز اور فائر پمپس سمیت ضروری آگ بجھانے کی سہولیات کی عدم موجودگی کی بارہا نشاندہی کی گئی تھی۔ رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا کہ عمارت کا الارم سسٹم غیر مؤثر یا غیر فعال تھا۔ کمیشن نے تربیت یافتہ عملے، فائر ڈرلز اور مناسب ریسکیو آلات کی کمی کی بھی نشاندہی کی اور کہا کہ شاپنگ سینٹر کو فائر سیفٹی کے لیے درکار کم از کم انتظامی صلاحیت کے بغیر چلایا جا رہا تھا۔ پولیس کی جانب سے جمع کرایا گیا چالان کراچی میں کمرشل عمارت میں پیش آنے والے مہلک ترین آتشزدگی کے واقعات میں سے ایک کی ذمہ داری اور احتساب کے تعین میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔