Saturday, August 8

کپتان حمزہ اکرم شہید، ہنگو میں 7 بھارتی پشت پناہی کے حامل دہشت گرد ہلاک، آئی ایس پی آر

اسلام آباد، 8 اگست 2026 (کامران راجہ): خیبر پختونخوا کے ضلع ہنگو میں سیکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران 7 بھارت نواز دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا، جبکہ فائرنگ کے شدید تبادلے میں پاک فوج کے کیپٹن حمزہ اکرم نے جامِ شہادت نوش کیا۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے 7 اگست کو دہشت گردوں کی موجودگی کی خفیہ اطلاع پر ہنگو میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن شروع کیا۔ کارروائی کے دوران فورسز نے دہشت گردوں کے ٹھکانے کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا اور 7 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق آپریشن کے دوران 27 سالہ کیپٹن حمزہ اکرم، جو ضلع نارووال کے رہائشی تھے، دہشت گردوں کا تعاقب کرتے ہوئے بہادری سے لڑتے ہوئے شہید ہوگئے۔ شہید افسر اپنے دستوں کی قیادت فرنٹ سے کر رہے تھے۔

کارروائی کے دوران ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق ہلاک دہشت گرد سیکیورٹی فورسز، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عام شہریوں کے خلاف متعدد دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث تھے۔علاقے میں کسی بھی ممکنہ دہشت گرد کی موجودگی کے خاتمے کے لیے سینیٹائزیشن آپریشن بھی کیا گیا۔ پاک فوج نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ملک بھر میں ’’عزمِ استحکام‘‘ کے تحت غیر ملکی سرپرستی اور معاونت سے ہونے والی دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھیں گے۔

دریں اثنا بلوچستان کے ضلع مستونگ کے علاقوں کمبیلا اور آسی آباد میں سیکیورٹی فورسز نے سرچ اور سینیٹائزیشن آپریشن کے دوران فتنۃ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے 3 دہشت گردوں کو ہلاک جبکہ 12 مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ کارروائی ’’آپریشن ردالفتنہ-3‘‘ کے تحت کی گئی، جس کے دوران تقریباً 68 مربع کلومیٹر کے علاقے کو کلیئر کیا گیا۔ذرائع کے مطابق کارروائی میں 3 دہشت گرد ہلاک ہوئے، جن میں سے 2 کی لاشیں برآمد کرلی گئی ہیں، جبکہ 4 دہشت گرد زخمی ہوئے، جن میں اہم کمانڈر شوکت ماما بھی شامل ہے۔ سیکیورٹی فورسز نے کارروائی کے دوران 12 مشتبہ افراد کو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا۔ دہشت گردوں کے ٹھکانے بھی مسمار کیے گئے جبکہ علاقے سے فتنۃ الہندوستان کے جھنڈے بھی ہٹا دیے گئے۔

پاکستان میں بالخصوص خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں 2021 کے بعد دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ سینٹر فار ریسرچ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز (CRSS) کی رپورٹ کے مطابق 2026 کی دوسری سہ ماہی کے دوران خیبر پختونخوا اور بلوچستان ملک میں دہشت گردی اور تشدد کے اہم مراکز رہے۔ رپورٹ کے مطابق سہ ماہی کے دوران ملک بھر میں تشدد سے ہونے والی مجموعی ہلاکتوں میں تقریباً 96 فیصد خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں ہوئیں۔ خیبر پختونخوا میں 475 ہلاکتیں، یعنی 61 فیصد سے زائد، جبکہ بلوچستان میں 265 ہلاکتیں، یعنی 34 فیصد، ریکارڈ کی گئیں۔ رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا میں 151 پرتشدد واقعات رپورٹ ہوئے جو ملک بھر کے مجموعی واقعات کا 57 فیصد بنتے ہیں، جبکہ بلوچستان میں 94 واقعات رپورٹ ہوئے، جو مجموعی واقعات کا 35 فیصد ہیں۔